شخصیات

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ: پہلا مہاجرِ حبشہ اور نبی کریم ﷺ کے رضاعی بھائی

حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد المخزومی رضی اللہ عنہ (وفات 4 ہجری / 625 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے اور آپ کا تعلق قریش کے بنو مخزوم قبیلے سے تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بعد میں ام المؤمنین بنیں۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے مہاجر ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ آپ کی والدہ کا نام برہ بنت عبدالمطلب تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لحاظ سے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔ مزید برآں، آپ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثویبہ نامی ایک باندی کا دودھ پیا تھا، جو ابو لہب کی آزاد کردہ تھی، اس وجہ سے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔

آپ نے اسلام کے ابتدائی دور میں، جب بہت کم لوگ مسلمان ہوئے تھے، اسلام قبول کیا۔ آپ کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا۔

ہجرتِ حبشہ اور بے مثال قربانی

جب مکہ میں مسلمانوں پر کفارِ قریش کے مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرتِ حبشہ کرنے والے پہلے مسلمان تھے (614 عیسوی)۔

حبشہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد، جب یہ خبر پھیلی کہ مکہ میں قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے (جو کہ ایک غلط خبر تھی)، تو یہ دونوں میاں بیوی واپس مکہ آ گئے۔ لیکن مکہ میں حالات پہلے سے بھی بدتر پائے، جس پر انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہجرتِ مدینہ کا کٹھن سفر

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ آپ اپنی بیوی حضرت ام سلمہ اور بیٹی سلمہ کو لے کر روانہ ہوئے، لیکن راستے میں حضرت ام سلمہ کے قبیلے بنو مغیرہ اور ابوسلمہ کے قبیلے بنو عبدالاسد کے لوگوں نے انہیں روک لیا۔ بنو مغیرہ نے حضرت ام سلمہ کو ان سے جدا کر لیا، اور بنو عبدالاسد نے ان کے بچے سلمہ کو چھین لیا۔

اس طرح حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو اپنی بیوی اور بچے کے بغیر اکیلے مدینہ ہجرت کرنا پڑی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے بچے کے بغیر ایک سال تک مکہ میں رونا پڑا۔ بالآخر، اللہ کے فضل سے انہیں بھی اپنے بیٹے کے ساتھ مدینہ آنے کی اجازت ملی۔ یہ واقعہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہجرت کے کٹھن سفر اور دین کے لیے ان کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جہاد اور شہادت

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ آنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی۔ آپ ایک بہادر اور جانثار سپاہی تھے۔

غزوہ بدر: آپ نے اس عظیم جنگ میں بھرپور حصہ لیا۔

غزوہ احد: 3 ہجری (625 عیسوی) میں ہونے والے غزوۂ احد میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس جنگ میں انہیں ایک تیر لگا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

وفات: غزوۂ احد کے زخم، جو بظاہر ٹھیک ہو گئے تھے، چند ماہ بعد دوبارہ تازہ ہو گئے اور شدید ہو گئے۔ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ 4 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی شہادت پر بہت رنج ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ کی وفات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔

میراث

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان، ہجرت، جہاد اور قربانی کی ایک عظیم مثال ہے۔ آپ کا شمار اسلام کے ابتدائی شہداء میں ہوتا ہے جنہوں نے دین کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ آپ کی ہجرتِ حبشہ اور مدینہ کی مشکلات نے ان کے ایمان کی پختگی کو ثابت کیا۔ آپ کی یہ قربانیاں رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

Leave a Comment