حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ (وفات 20 ہجری / 641 عیسوی) انصار کے عظیم صحابہ میں سے ایک تھے، جو مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو اشہل کے سردار تھے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے اور آپ اپنی خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت، علم، تقویٰ اور غیرتِ اسلامی کے لیے مشہور تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا شمار مدینہ کے ان نمایاں شخصیات میں ہوتا تھا جو اسلام سے قبل بھی اپنے قبیلے میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ نے بیعتِ عقبہ ثانیہ (622 عیسوی) کے بعد اسلام قبول کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اسلام کی دعوت کے لیے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھوں اسلام: حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر سرداروں کو اسلام کی دعوت دی۔ روایت ہے کہ جب حضرت مصعبؓ تبلیغ کے لیے آئے تو حضرت اسیدؓ غصے میں تلوار لے کر ان کی طرف بڑھے، لیکن مصعبؓ نے انہیں ٹھہر کر بات سننے کی دعوت دی۔ جب اسیدؓ نے قرآن سنا تو آپ کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا اور آپ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد، آپ کے قبیلے بنو اشہل کے تمام افراد نے بھی اسلام قبول کر لیا، جو آپ کی قیادت اور اثر و رسوخ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
فضائل و مناقب
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کئی خوبیوں اور فضائل کے حامل تھے:
قرآن کی تلاوت اور فرشتوں کا نزول: آپ کی تلاوتِ قرآن اس قدر خوبصورت تھی کہ ایک مرتبہ جب آپ رات کو سورہ کہف کی تلاوت فرما رہے تھے، تو فرشتوں کا ایک بادل آپ کے گھر کے اوپر سایہ فگن ہو گیا جس میں قندیلیں روشن تھیں۔ آپ کا گھوڑا بھی فرشتوں کی موجودگی سے بے چین ہو رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اے اسید! تلاوت کرتے رہو، وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سننے کے لیے قریب آ گئے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ انہیں دیکھ لیتے، وہ چھپتے نہیں” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ یہ آپ کی تلاوت کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملنے والی خصوصی کرامت تھی۔
انصار کے سرداروں میں سے: آپ مدینہ کے سرداروں میں سے تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کا مقام و مرتبہ برقرار رہا۔ آپ انصار کے بااثر افراد میں شامل تھے جنہوں نے مہاجرین کی بھرپور مدد کی۔
علم و فقہ: آپ کو علم فقہ اور دینی مسائل کا گہرا ادراک حاصل تھا، اور آپ فتاویٰ بھی دیتے تھے۔
زہد و تقویٰ: آپ انتہائی پرہیزگار اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کو دین اسلام کی خدمت میں وقف کر دیا۔
جہاد اور غزوات میں شرکت
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی:؎
غزوہ بدر: آپ نے جنگ بدر میں حصہ لیا اور بہادری کے جوہر دکھائے۔
غزوہ احد: اس جنگ میں آپ نے پامردی سے لڑائی لڑی اور ثابت قدم رہے۔
دیگر غزوات: آپ غزوہ خندق، فتح مکہ اور دیگر تمام اہم غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ رہے۔
وفات
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے 20 ہجری (641 عیسوی) میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خود آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ کی وفات پر مسلمانوں کو گہرا رنج ہوا۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے سچائی، ایثار اور قربانی کا ایک روشن باب ہے۔ ان کی خوبصورت تلاوت، علمی بصیرت، اور عملی استقامت نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین نمونہ قائم کیا۔
