فاتحِ مکہ اور صاحبِ لواء نبوی ﷺ
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ (وفات 63 ہجری / 682-683 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، اور آپ کو خاص طور پر ہجرتِ نبوی ﷺ کے استقبال، فتح مکہ میں اہم کردار اور بعد ازاں اسلامی فتوحات میں نمایاں شجاعت کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا تعلق مکہ اور مدینہ کے درمیان آباد قبیلے اسلم سے تھا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے دوران اسلام قبول کیا۔
ہجرتِ نبوی ﷺ کے دوران قبولِ اسلام: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ کی طرف جا رہے تھے، تو راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلے کے ستر (یا اسی) افراد سے ہوئی۔ اس وقت حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ قبیلے کے سردار تھے اور ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے کے لیے بھیجا گیا ایک سرکاری خط تھا۔
ملاقات کے دوران، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، جس پر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے تمام ساتھیوں نے فی الفور اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ان کے ایمان کی صداقت اور حق کو پہچاننے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پہلا پرچم اور نمازِ جمعہ: اسلام قبول کرنے کے بعد، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں اپنے جھنڈے (پرچم) کے ساتھ داخل ہوں، کیونکہ اس سے مسلمانوں کی شوکت ظاہر ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو کھول کر جھنڈا بنایا اور اسے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ اس طرح حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس پرچم کے سائے میں مدینہ میں داخلہ لیا۔
یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے ساتھ مل کر (یا بعض روایات کے مطابق، اس دن)، پہلی بار جمعہ کی نماز ادا کی جو مدینہ کے قریب ایک بستی میں ہوئی۔
فضائل و مناقب اور جنگی خدمات
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں شرکت کی اور اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
صاحبِ لواء نبوی ﷺ: آپ کو کئی غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا (لواء) اٹھانے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قابلِ اعتماد اور بہادر سپہ سالاروں میں سے تھے۔
فتح مکہ میں اہم کردار: فتح مکہ کے موقع پر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فوج کو کئی دستوں میں تقسیم کیا تھا۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کو اسلم قبیلے کے دستے کا سردار بنایا گیا تھا، اور آپ نے فتح مکہ میں پرچم تھامے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔
نبی کریم ﷺ کے بعد کا کردار: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی فتوحات میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ نے خاص طور پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں خراسان کی فتوحات میں شرکت کی اور وہیں مقیم ہو گئے۔
جہاد کا شوق: آپ کو جہاد کا اس قدر شوق تھا کہ آپ آخری عمر تک جنگی مہمات میں شامل رہے۔
وفات
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ نے طویل عمر پائی اور آپ کی وفات 63 ہجری (682-683 عیسوی) میں خراسان کے شہر مرو میں ہوئی۔ آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر دینِ اسلام کی خدمت، جہاد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان، شجاعت، اور دین کی خدمت کا ایک روشن باب ہے۔ ان کا اسلام قبول کرنے کا منفرد واقعہ اور بعد ازاں اسلامی فتوحات میں ان کا کردار انہیں تاریخ اسلام کی ایک ممتاز شخصیت بناتا ہے۔
