ام المؤمنین، حافظۂ قرآن اور صدیقہ بنت صدیق
حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما (ولادت تقریباً 18 نبوی / 605 عیسوی، وفات 45 ہجری / 665 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ آپ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کو اپنی ذہانت، عبادت گزاری اور خاص طور پر قرآن مجید کی حفاظت میں ان کے کردار کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے تقریباً 5 سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو عدی قبیلے سے تھا، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبیلے کی وجہ سے بھی معروف تھا۔ آپ نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔
آپ کا پہلا نکاح حضرت خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ سے ہوا، جو ایک جلیل القدر صحابی اور سابقون الاولون میں سے تھے۔ حضرت خنیس رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ حبشہ اور ہجرتِ مدینہ دونوں میں شرکت کی تھی۔
ہجرت اور نکاحِ نبوی ﷺ
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی اور اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے۔ آپ انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے (یا بعض روایات کے مطابق غزوۂ احد میں شہید ہوئے)۔ اس وقت حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹی کے بیوہ ہونے پر تشویش ہوئی تو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نکاح کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی یا معذرت کر لی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حفصہ کو عثمان سے بہتر شوہر ملے گا اور عثمان کو حفصہ سے بہتر بیوی ملے گی۔” اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان 3 ہجری (625 عیسوی) میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری زوجہ مطہرہ تھیں۔ اس نکاح نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سسر بنا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے تعلق کو مزید مضبوط کیا۔
فضائل و مناقب
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو کئی منفرد فضائل حاصل تھے:
حافظۂ قرآن: آپ ان چند ازواجِ مطہرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی پورا قرآن حفظ کر لیا تھا۔ آپ کو قرآنی آیات کا گہرا علم تھا۔
امانتِ قرآنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا گیا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جمع شدہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس امانت کے طور پر رکھوائے۔ بعد میں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قرآن کے متعدد نسخے تیار کیے گئے تاکہ انہیں اسلامی دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجا جا سکے، تو انہی صحیفوں کو بنیاد بنایا گیا جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ تھے۔ یہ ان کے لیے ایک عظیم شرف اور اعزاز ہے۔
عبادت گزار: آپ بہت عبادت گزار تھیں، کثرت سے روزے رکھتیں اور نوافل ادا کرتی تھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: “حفصہ کو رجوع کر لیجیے، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور نماز پڑھنے والی ہیں، اور وہ جنت میں آپ کی ازواج میں سے ہیں۔” (المستدرک علی الصحیحین)
علم و روایت حدیث: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کیں۔ چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رفیقِ حیات تھیں، ان کی روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی اور عادات کے بارے میں قیمتی معلومات ملتی ہیں۔
وفات
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے طویل عمر پائی اور 45 ہجری (665 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 60 سال تھی۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر علمِ دین، عبادت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثے کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی میراث ایک ایسی خاتون کی ہے جو تقویٰ، علم اور قرآن سے گہری محبت کا پیکر تھیں۔ قرآن مجید کی حفاظت میں ان کا کردار انہیں اسلامی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام عطا کرتا ہے۔ آپ کی زندگی امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک خاتون علم و عمل کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے سکتی ہے۔
