شخصیات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (وفات 32 یا 33 ہجری / 652 یا 653 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے اور آپ ان چند صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں اپنا زیادہ تر وقت گزارا۔ آپ علم، فقہ، قرآن کے گہرے علم اور زہد و تقویٰ کے لیے مشہور تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو “امت کا فقیہ” قرار دیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تعلق ہذیل قبیلے سے تھا اور اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ مکہ میں عقبہ بن ابی معیط کے چرواہے تھے۔ آپ ایک غریب اور کمزور جسم والے شخص تھے، لیکن جب اللہ نے آپ کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیا تو آپ نے تمام مشکلات کا سامنا کیا اور اسلام قبول کر لیا۔

آپ اسلام قبول کرنے والے چھٹے یا ساتویں فرد تھے، اور آپ نے ہجرتِ حبشہ سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ اسلام کے لیے قربانیاں دینے میں پیش پیش تھے اور آپ وہ پہلے صحابی تھے جنہوں نے مکہ میں کعبہ کے قریب کھڑے ہو کر بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کی اور کفار قریش کی اذیتوں کا سامنا کیا۔

فضائل و مناقب

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کئی عظیم فضائل حاصل تھے:

قرآن کے سب سے بڑے قاری اور حافظ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قرآن کا بہترین قاری قرار دیا۔ آپ نے قرآن کی بہت سی سورتیں براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور انہیں حفظ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس کو قرآن کو تازہ (اپنی اصلی حالت میں) پڑھنا پسند ہو، وہ ابن ام عبد (ابن مسعود) کی قرات پڑھے۔” (سنن ابن ماجہ) آپ کو اس قدر گہرا علم تھا کہ آپ فرماتے تھے: “اللہ کی قسم! قرآن کی جو بھی آیت نازل ہوئی ہے، میں جانتا ہوں کہ یہ کہاں نازل ہوئی اور کس بارے میں نازل ہوئی۔”

فقہ اور سنت کا علم: آپ کو فقہ (اسلامی قانون) کا گہرا علم تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی فقہی مسائل میں آپ سے مشورہ کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو امت کا فقیہ قرار دیا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزاروں احادیث سنیں اور انہیں محفوظ کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خادم: آپ اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کی دیکھ بھال کرتے، آپ کا مسواک رکھتے اور آپ کی ضرورت کے دیگر سامان اٹھاتے۔ اس قریبی تعلق کی وجہ سے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کا گہرا مشاہدہ کیا۔

بڑے مجاہد: آپ نے بدر، احد، خندق سمیت تمام اہم غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ غزوۂ بدر میں آپ نے کفار کے سردار ابوجہل کو قتل کیا۔

خلیفہ عمرؓ اور عثمانؓ کے دور میں کردار

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کوفہ کے قاضی (جج) اور بیت المال (خزانہ) کے انچارج کے طور پر خدمات انجام دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھیجتے ہوئے کوفہ والوں سے فرمایا: “میں نے تمہاری طرف عبداللہ بن مسعود کو بھیجا ہے اور مجھے تم پر اپنے آپ سے زیادہ بھروسہ ان پر ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، ان سے علم حاصل کرو۔”

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب قرآن کو ایک معیاری مصحف (قرآن کا نسخہ) کی شکل میں جمع کرنے کا کام کیا گیا، تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں اپنے پاس موجود مصاحف کی مختلف قراتوں پر اختلاف کیا، لیکن بعد میں امتی اتحاد اور یکجہتی کی خاطر اس فیصلے کو قبول کیا۔

وفات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طویل عمر پائی اور 32 یا 33 ہجری (652 یا 653 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات پر مسلمانوں کو گہرا رنج ہوا۔

میراث

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کو اسلام، قرآن اور سنت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے علم اور تقویٰ کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث، فقہی آراء اور قرآنی بصیرت ہمیشہ مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ رہیں گی۔ آپ کا شمار ان معدودے چند صحابہ میں ہوتا ہے جن کے علم پر امت کا اجماع ہے اور جو قرآن و سنت کے حقیقی وارث سمجھے جاتے ہیں۔

Leave a Comment