ابیدینوس ایک اہم شخصیت ہیں جن کا ذکر عبرانی بائبل کی کتاب دانیال (Daniel) میں ملتا ہے۔ یہ نام اصل میں بابلی ہے اور ان چار نوجوان یہودیوں میں سے ایک کو دیا گیا تھا جنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر (Nebuchadnezzar) کے دربار میں خدمت کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ابیدینوس کا اصل عبرانی نام عَزَرْیَا (Azariah) تھا۔ وہ بابل کی اسیری کے دوران اپنی غیر معمولی وفاداری، ایمان اور آزمائشوں میں ثابت قدمی کے لیے جانے جاتے ہیں۔
پس منظر اور بابل کی اسیری
605 قبل مسیح کے لگ بھگ، بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلم پر حملہ کیا اور یہودیوں کو اسیر بنا کر بابل لے گیا۔ اسیروں میں شاہی خاندان اور noble گھرانوں کے نوجوان بھی شامل تھے جنہیں بادشاہ نے اپنی خدمت کے لیے منتخب کیا۔ ان کا مقصد ان نوجوانوں کو بابلی علوم، زبان اور ثقافت سکھا کر اپنے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنا تھا۔
ان منتخب نوجوانوں میں چار یہودی تھے:
دانیال (Daniel) جن کا بابلی نام بیلطشضر (Belteshazzar) تھا۔
حَنَنیاہ (Hananiah) جن کا بابلی نام شدرک (Shadrach) تھا۔
میشائیل (Mishael) جن کا بابلی نام میشک (Meshach) تھا۔
عَزَرْیَا (Azariah) جن کا بابلی نام ابیدینوس (Abednego) تھا۔
ان چاروں نے اپنے یہودی ایمان اور اپنی خوراک کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے شاہی کھانے اور مے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جو بتوں کو پیش کیے جاتے تھے، اور اس کے بجائے سبزیوں اور پانی پر اکتفا کیا، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ اللہ کے حکم پر غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے۔ اس استقامت کے نتیجے میں وہ دس دن میں شاہی کھانے والے دوسرے تمام نوجوانوں سے زیادہ صحت مند اور توانا نظر آئے۔
بھڑکتی ہوئی بھٹی کا واقعہ
ابیدینوس کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ بھڑکتی ہوئی بھٹی (Fiery Furnace) کا ہے۔ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے ایک سونے کا دیو ہیکل بت بنوایا اور حکم دیا کہ تمام لوگ اسے سجدہ کریں۔ اس نے دھمکی دی کہ جو شخص اس بت کو سجدہ نہیں کرے گا اسے بھڑکتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا جائے گا۔
شدرک، میشک اور ابیدینوس (دانیال اس وقت کسی اور جگہ تھے یا اس حکم سے مستثنیٰ تھے) نے بت کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کھلے عام اعلان کیا:
“ہمیں تجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہم بھڑکتی ہوئی بھٹی میں ڈالے گئے، تو ہمارا خدا جس کی ہم خدمت کرتے ہیں، ہمیں اس بھڑکتی ہوئی بھٹی سے اور تیرے ہاتھ سے بچانے کی قدرت رکھتا ہے، اے بادشاہ! اور اگر وہ نہ بھی بچائے، تب بھی ہم تیرے دیوتاؤں کی خدمت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس سونے کے بت کو سجدہ کریں گے جو تو نے بنوایا ہے۔” (دانیال 3:16-18 کا مفہوم)
ان کے اس اٹل ایمان اور انکار پر بادشاہ سخت غضبناک ہوا اور اس نے حکم دیا کہ بھٹی کو معمول سے سات گنا زیادہ گرم کیا جائے اور انہیں اس میں پھینک دیا جائے۔ بادشاہ کے سب سے طاقتور سپاہیوں نے انہیں باندھ کر بھٹی میں پھینک دیا، اور بھٹی کی شدید گرمی سے وہ سپاہی خود جل کر مر گئے۔
تاہم، جب بادشاہ اور اس کے مشیروں نے دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کہ بھٹی میں تین کے بجائے چار آدمی چل پھر رہے ہیں، اور چوتھے کی شکل “دیوتاؤں کے بیٹے” (یا فرشتہ) کی مانند تھی۔ شدرک، میشک اور ابیدینوس بھٹی سے باہر آ گئے اور ان کے جسموں پر آگ کا کوئی نشان نہیں تھا، نہ ان کے بال جھلسے تھے، اور نہ ہی ان کے کپڑوں سے جلنے کی بو آ رہی تھی۔
ایمان اور ثابت قدمی کی علامت
اس معجزے کو دیکھ کر بادشاہ نبوکدنضر بہت متاثر ہوا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ بنی اسرائیل کا خدا ہی سچا خدا ہے۔ اس نے شدرک، میشک اور ابیدینوس کو بابل کے صوبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا۔
