شخصیات

پوپ گلاسیس اول

پوپ گلاسیس اول (Pope Gelasius I) 1 مارچ 492 عیسوی سے 21 نومبر 496 عیسوی تک روم کے بشپ (پوپ) رہے۔ ان کا دور مغربی رومی سلطنت کے زوال کے بعد کے ابتدائی سالوں میں تھا، جب یورپ سیاسی طور پر انتشار کا شکار تھا اور کلیسا کو نئے چیلنجز کا سامنا تھا۔ گلاسیس اول کو ان کے عبادتی (liturgical) اصلاحات، روم کے بشپ کے اختیار کے دفاع، اور ریاستی طاقت پر کلیسائی طاقت کی برتری کے نظریے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور انتخاب

گلاسیس اول غالباً شمالی افریقہ میں پیدا ہوئے، حالانکہ کچھ ذرائع انہیں روم کا باشندہ بتاتے ہیں۔ ان کا تعلق ایک افریقی نژاد خاندان سے تھا اور وہ پوپ فیلکس سوم (Pope Felix III) کے دور میں ایک سرگرم اور بااثر ڈیکن تھے۔ انہیں 492 عیسوی میں پوپ منتخب کیا گیا، اور ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا جب روم ایک طرف مشرقی سلطنت قسطنطنیہ (Byzantine Empire) سے مذہبی کشیدگی کا شکار تھا اور دوسری طرف اٹلی میں اوڈواکر (Odoacer) کے بعد تھیوڈیرک اعظم (Theodoric the Great) کی گوتھک بادشاہت قائم ہو چکی تھی۔

اہم کارنامے اور نظریات

پوپ گلاسیس اول کا دور مختصر مگر انتہائی اہم تھا، جس کی وجہ ان کے درج ذیل اہم اقدامات اور نظریات ہیں:

دو تلواروں کا نظریہ (The Doctrine of Two Swords): یہ گلاسیس کا سب سے مشہور اور اثر انگیز نظریہ ہے، جسے انہوں نے شہنشاہ اناستاسیئس اول (Emperor Anastasius I) کو لکھے گئے ایک خط میں بیان کیا۔ اس نظریے کے مطابق، دنیا پر حکومت کرنے کے دو الگ الگ طاقتیں ہیں:

مقدس اختیار (Sacred Authority): یہ بشپس کے پاس ہے، جو روحانی اور اخلاقی معاملات کو سنبھالتے ہیں۔

شاہی طاقت (Royal Power): یہ بادشاہوں اور شہنشاہوں کے پاس ہے، جو دنیاوی اور سیاسی معاملات کو سنبھالتے ہیں۔

گلاسیس نے زور دیا کہ روحانی اختیار زیادہ اہم ہے، کیونکہ پادریوں کو بادشاہوں سمیت تمام انسانوں کے روحانی انجام کے لیے خدا کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ یہ نظریہ بعد میں صدیوں تک کلیسا اور ریاست کے تعلقات کی بنیاد بنا۔

اکیان اسکینڈل (Acacian Schism) کا حل: گلاسیس نے قسطنطنیہ کے پٹریارک ایکیئس (Acacius) کے ساتھ جاری اسکینڈل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ یہ اسکینڈل ایک الہیاتی تنازع سے شروع ہوا تھا جس میں مشرقی چرچ نے روم کے پوپ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ گلاسیس نے اس اسکینڈل کو ختم کرنے پر زور دیا اور روم کی پاپائیت کی بالادستی کا بھرپور دفاع کیا۔

عبادتی اصلاحات (Liturgical Reforms): گلاسیس اول کو لاطینی عبادات کے لیے ایک معیاری کتاب، جلیشیئن سیکرمنٹری (Gelasian Sacramentary) کا مصنف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس کی حتمی تدوین ان کے بعد ہوئی۔ انہوں نے رومن عبادتی نظام میں کئی دعاؤں، رسومات اور عبادتی اصولوں کو منظم کیا۔ انہوں نے نئے سال کے آغاز میں کئی بت پرست تہواروں، خاص طور پر لوپرکالیا (Lupercalia) کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ان کی جگہ مسیحی تعطیلات متعارف کروائیں۔

نظریہ پاپائی اختیار (Papal Authority): انہوں نے روم کے بشپ کے اختیار کو نہ صرف مغربی کلیسا بلکہ پورے عالمگیر چرچ پر زور دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ روم کا کلیسا سینٹ پیٹر رسول کی بنیاد پر باقی تمام کلیساؤں پر فوقیت رکھتا ہے۔

قانون سازی (Canon Law): گلاسیس نے کلیسائی قوانین (canon law) کی تالیف اور تشریح میں بھی حصہ لیا، جس سے کلیسا کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوطی ملی۔

میراث

پوپ گلاسیس اول کا دور ایک عبوری دور تھا جس میں مغربی رومی سلطنت کی جگہ نئی گوتھک ریاستیں ابھر رہی تھیں۔ اس نازک وقت میں، گلاسیس نے چرچ کے روحانی اور انتظامی رول کو مضبوط کیا اور اسے ایک آزاد اور خودمختار ادارے کے طور پر قائم کیا۔ ان کے “دو تلواروں کے نظریے” نے آئندہ صدیوں کے لیے پاپائیت اور شاہی اقتدار کے تعلقات کی بنیاد فراہم کی۔

انہیں ایک قابل اور پختہ ارادہ رکھنے والے رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے کلیسائی اصولوں اور عبادات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ پوپ گلاسیس اول کو 21 نومبر کو ایک مقدس (Saint) کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

Leave a Comment