پوپ سائریس اول (Pope Cyril I) سکندریہ کے ایک انتہائی بااثر اور اہم پادری تھے جنہوں نے 412 عیسوی سے 444 عیسوی تک سکندریہ کے پٹریارک (Patriarch of Alexandria) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا دور چوتھی اور پانچویں صدی کے ابتدائی دور میں عیسائی الہیات اور کلیسیائی سیاست میں گہرے تنازعات سے بھرا ہوا تھا، اور سائریس ان میں ایک مرکزی شخصیت تھے۔ انہیں کیتھولک، ایسٹرن آرتھوڈوکس، اور اورینٹل آرتھوڈوکس کلیساؤں میں ایک مقدس (Saint) کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
سائریس تقریباً 376 عیسوی میں مصر کے ایک معزز اور دولتمند عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے چچا، تھیو فیلس (Theophilus)، جو اس وقت سکندریہ کے پٹریارک تھے، کے زیر سایہ پلے بڑھے اور ان کی سرپرستی میں مذہبی تعلیم حاصل کی۔ سکندریہ اُس وقت علمی اور مذہبی اعتبار سے ایک بڑا مرکز تھا، جہاں سائریس نے الہیات، فلسفہ، اور الہامی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر میکاریس (Macarius) نامی ایک بزرگ پادری کے ساتھ صحرائی خانقاہ میں بھی وقت گزارا، جس نے ان کی روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
سکندریہ کے پٹریارک کا انتخاب اور ابتدائی چیلنجز
تھیو فیلس کی وفات کے بعد، سائریس کو 412 عیسوی میں سکندریہ کا پٹریارک منتخب کیا گیا۔ تاہم، یہ انتخاب بھی روم اور دیگر کلیسائی مراکز کی طرح بغیر کسی مخالفت کے نہیں ہوا، اور ان کا مقابلہ ایک اور پادری تیمتھیس (Timothy) سے تھا۔ پٹریارک بننے کے بعد، سائریس کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
نوواشیئنز (Novatians) اور یہودی برادری: سائریس نے سکندریہ میں نوواشیئنز (عیسائیوں کا ایک گروہ جو سختی پر زور دیتا تھا) کے گرجوں کو بند کروایا اور ان کے رہنماؤں کو شہر بدر کیا۔ انہوں نے سکندریہ کی یہودی برادری کے ساتھ بھی تنازعات کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں شہر میں فسادات ہوئے اور یہودیوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اوگیپٹ کے ہائپاشیا (Hypatia of Alexandria) کا قتل: سائریس کے دور کا ایک متنازع واقعہ مشہور نو-پلاٹونک فلسفی اور ریاضی دان ہائپاشیا کا قتل تھا۔ یہ واقعہ 415 عیسوی میں پیش آیا، جب ایک مشتعل ہجوم نے ہائپاشیا کو قتل کر دیا تھا۔ اگرچہ سائریس کا براہ راست تعلق اس قتل سے ثابت نہیں ہوتا، لیکن بعض مورخین ان کے کچھ پیروکاروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جس سے ان کے دور میں مذہبی اور سماجی کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
نسطوریانیت (Nestorianism) کے خلاف جدوجہد
سائریس کی سب سے اہم الہیاتی جدوجہد نسطوریانیت (Nestorianism) کے خلاف تھی۔ نسطوریس (Nestorius) قسطنطنیہ کے پٹریارک تھے جنہوں نے مسیح کی الہی اور انسانی فطرت کے تعلق کے بارے میں ایک الگ نظریہ پیش کیا۔ نسطوریس نے اس بات پر زور دیا کہ مریم کو “تھیوٹوکوَس (Theotokos)” یعنی “خدا کی ماں” نہیں بلکہ “کرسٹوٹوکوَس (Christotokos)” یعنی “مسیح کی ماں” کہنا چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں مریم نے صرف مسیح کی انسانی فطرت کو جنم دیا تھا۔
سائریس نے اس نظریے کو بدعت قرار دیا اور شدید مخالفت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ مسیح کی الہی اور انسانی فطرت ایک ہی شخص میں مکمل طور پر متحد ہیں، اور اس لیے مریم کو “خدا کی ماں” کہنا بالکل درست ہے۔ یہ تنازع اتنا بڑھا کہ اسے حل کرنے کے لیے افسس کی مجلس (Council of Ephesus) 431 عیسوی میں بلائی گئی۔
افسس کی مجلس (431 عیسوی)
افسس کی مجلس میں پوپ سائریس اول نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجلس کی صدارت کی اور نسطوریس کے نظریات کی شدید مذمت کی۔ مجلس نے نسطوریانیت کو بدعت قرار دیا اور یہ عقیدہ قائم کیا کہ مسیح ایک ہی شخص ہیں جس میں الہی اور انسانی فطرت مکمل طور پر متحد ہیں۔ اس طرح مریم کو “تھیوٹوکوَس” (خدا کی ماں) کا لقب باضابطہ طور پر کلیسائی عقیدے کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
سائریس نے اس مجلس میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس سے مشرقی اور مغربی کلیساؤں کے درمیان کچھ کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ تاہم، آخر کار ایک “یونین کا فارمولا (Formula of Union)” 433 عیسوی میں تیار کیا گیا جس نے زیادہ تر تنازعات کو حل کر دیا۔
میراث اور اہمیت
پوپ سائریس اول کا انتقال 444 عیسوی میں ہوا۔ انہیں مسیحی الہیات، خاص طور پر مسیح کی ذات کے حوالے سے ان کے کردار کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مسیح کی ایک ذات اور دو فطرتوں کے عقیدے کی مضبوطی سے وکالت کی، جو آج بھی بہت سے مسیحی کلیساؤں کا بنیادی عقیدہ ہے۔
انہیں ایک ذہین، پرجوش، اور بعض اوقات سخت گیر رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے کام نے سکندریہ کے کلیسا کی اہمیت کو بڑھایا اور الہیاتی مباحث میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔ انہیں رومن کیتھولک چرچ، ایسٹرن آرتھوڈوکس چرچ، اور اورینٹل آرتھوڈوکس چرچز میں مقدس کے طور پر پوجا جاتا ہے، اور ان کا شمار کلیسا کے عظیم آباؤ اجداد (Fathers of the Church) میں ہوتا ہے۔
