پونتس پیلاطس (Pontius Pilate) ایک رومی عہدیدار تھے جنہوں نے 26 سے 36 عیسوی تک رومی صوبے یہودیہ (Judaea) کے پانچویں حاکم (Prefect) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا دور حکومت شہنشاہ تیبیریئس (Tiberius) کے تحت تھا۔ تاریخ میں ان کا نام بنیادی طور پر یسوع مسیح کی مصلوبیت میں ان کے کردار کی وجہ سے مشہور ہے۔
رومی حکومت میں عہدہ اور اختیارات
پونتس پیلاطس کو یہودیہ کا پرفیکٹ (Prefect) یا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا عہدہ تھا جو عام طور پر ایکویسٹرین طبقے (equestrian class) سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیا جاتا تھا، جو رومی اشرافیہ میں سینیٹ کے بعد دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کی ذمہ داریاں وسیع تھیں اور ان میں شامل تھیں:
امن و امان برقرار رکھنا: یہودیہ ایک شورش زدہ صوبہ تھا جہاں یہودی آبادی میں رومی حکمرانی کے خلاف شدید مزاحمت پائی جاتی تھی۔ پیلاطس کی سب سے اہم ذمہ داری صوبے میں امن و امان قائم رکھنا تھا۔
فوجی کمان: وہ صوبے میں تعینات رومی فوجوں (تقریباً 5000 سے زائد سپاہی، جن میں پیدل فوج اور گھڑ سوار شامل تھے) کے کمانڈر تھے۔ فوج کا ایک حصہ یروشلم میں انطونیہ کے قلعے میں تعینات رہتا تھا تاکہ ہیکل اور شہر کی نگرانی کر سکے۔
عدالتی اختیار: انہیں صوبے کا اعلیٰ ترین جج سمجھا جاتا تھا اور انہیں سزائے موت دینے کا اختیار حاصل تھا۔
ٹیکس کی وصولی: وہ ٹیکس اور دیگر مالیاتی آمدنی جمع کرنے کے ذمہ دار تھے۔
تعمیراتی منصوبے: بعض اوقات وہ عوامی تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی بھی کرتے تھے، جیسے ایکسیڈکٹس (پانی کی نالیاں) کی تعمیر۔
پیلاطس کا کردار اور شخصیت
انجیل کی روایات کے علاوہ، یہودی مورخین جوزیفس (Josephus) اور فلسفی فیلو (Philo) بھی پیلاطس کا ذکر کرتے ہیں، اور وہ عام طور پر ان کی ایک منفی تصویر پیش کرتے ہیں۔
تنازعات: پیلاطس کا دور یہودیہ کی یہودی آبادی کے ساتھ مسلسل تنازعات سے بھرا رہا۔ وہ اکثر ایسے اقدامات کرتے تھے جو یہودیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے تھے، جیسے رومی پرچموں پر شہنشاہ کی تصاویر کے ساتھ یروشلم میں داخل ہونا یا ہیکل کے فنڈز کو عوامی منصوبوں کے لیے استعمال کرنا، جس سے پرتشدد احتجاجات اور جانی نقصان ہوا۔
ظالم اور ضدی: جوزیفس اور فیلو کے مطابق، وہ ضدی، ظالم، سنگ دل اور لٹیرا حکمران تھا۔ وہ عدالتی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کو سزا سناتا تھا۔
یسوع مسیح کا مقدمہ: پیلاطس کا سب سے مشہور تاریخی کردار یسوع مسیح کے مقدمے میں ہے۔ انجیل کی روایات انہیں ایک متذبذب شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہیں جو بظاہر یسوع کو بے گناہ سمجھتے تھے، لیکن یہودی سرداروں اور ہجوم کے دباؤ کے سامنے جھک گئے اور انہیں مصلوب کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ دھو کر یہ کہا کہ وہ اس خون سے بری الذمہ ہیں۔
بعد کا انجام
پیلاطس کو 36 عیسوی کے آس پاس ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور انہیں روم واپس بلا لیا گیا تاکہ سماریوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا کر سکیں۔ ان کی موت کے بارے میں تاریخی طور پر کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں، لیکن کچھ روایات کے مطابق انہوں نے شہنشاہ کالیگولا (Caligula) کے حکم پر خودکشی کر لی تھی۔
پونتس پیلاطس کا نام آج بھی یسوع مسیح کے مقدمے سے جڑا ہوا ہے اور وہ عیسائی مذہبی روایت میں ایک اہم اور متنازع شخصیت کے طور پر موجود ہیں۔
