انصار کے پہلے سردار اور بیعتِ عقبہ اولیٰ کے امیر
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ (وفات 1 ہجری / 622 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا شمار انصاری صحابہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں اور بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصاری قبیلے خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، اور آپ ان پہلے شخصیات میں سے تھے جنہوں نے مدینہ میں اسلام کی بنیاد رکھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے لیے راہ ہموار کی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا شمار مدینہ کے ان نمایاں سرداروں میں ہوتا تھا جو اسلام سے قبل بھی اپنے قبیلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ نے سب سے پہلے مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
بیعتِ عقبہ اولیٰ (12 نبوی / 621 عیسوی): یہ واقعہ مدینہ سے آئے ہوئے چھ (یا بعض روایات کے مطابق آٹھ) افراد کے ساتھ پیش آیا جنہوں نے منیٰ کے مقام پر عقبہ کے قریب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ان چھ افراد میں سے ایک تھے۔ یہ تاریخ میں بیعتِ عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت میں مسلمانوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، اور کسی نیکی کے کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
امیر مقرر ہونا: اس بیعت کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو ان چھ افراد کا امیر مقرر کیا اور ان سے کہا کہ وہ مدینہ واپس جا کر اسلام کی دعوت دیں۔ یہ حضرت اسعد کی مدینہ میں اسلام کی تبلیغ میں اولین کردار کا آغاز تھا۔
مدینہ میں اسلام کی اشاعت اور بیعتِ عقبہ ثانیہ
مدینہ واپس آ کر حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دینے کے لیے مدینہ بھیجا تھا) کے ساتھ مل کر اسلام کی بھرپور اشاعت کی۔ ان کی کاوشوں سے مدینہ میں اسلام تیزی سے پھیلا اور بہت سے انصاری سرداروں نے اسلام قبول کیا۔
بیعتِ عقبہ ثانیہ (13 نبوی / 622 عیسوی): اگلے سال، 70 سے زیادہ انصاری افراد منیٰ کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، جن میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نمایاں طور پر شامل تھے۔ اس بیعت میں مسلمانوں نے نہ صرف اسلام پر ثابت قدم رہنے کا عہد کیا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مہاجرین کو مدینہ ہجرت کرنے کی دعوت دی اور ان کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ یہ تاریخ میں بیعتِ عقبہ ثانیہ کہلاتی ہے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کی راہ ہموار کی۔
نقبا میں شامل ہونا: اس بیعت کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 12 نقبا (سرداروں/نمائندوں) کا انتخاب کیا، جن میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ یہ نقبا اپنے اپنے قبیلوں میں اسلام کی تعلیمات کی نگہبانی اور نظم و نسق کے ذمہ دار تھے۔
فضائل و مناقب اور وفات
نبی کریم ﷺ کے اولین میزبان: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائی ایام میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر ہونے سے پہلے، بعض روایات کے مطابق، چند دن حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے تھے۔ تاہم، زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ آپ کا قیام ابو ایوب انصاری کے گھر تھا۔ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے اپنی زمین کا ایک حصہ بھی وقف کیا تھا۔
علم و فضل: حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہیں، جو ان کے علمی مقام کی عکاسی کرتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ سے محبت: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔
وفات: حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے پہلے ہی سال (1 ہجری) میں وفات پائی، جب ابھی مدینہ میں اسلامی ریاست کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ انہیں گلے کی ایک بیماری (یا خناق) لاحق ہوئی جس کے نتیجے میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات پر شدید غم کا اظہار فرمایا اور خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ انصار کے پہلے سرداروں میں سے تھے جن کا مدینہ میں انتقال ہوا۔
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی وفات مسلمانوں کے لیے ایک بڑا نقصان تھا، لیکن آپ نے مدینہ میں اسلام کے لیے جو بنیاد رکھی تھی، اس کی وجہ سے اسلام مضبوطی سے قائم ہو چکا تھا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی زندگی مدینہ میں اسلام کے بیج بونے اور اسے پروان چڑھانے کی ایک لازوال داستان ہے۔ ان کی ابتدائی جدوجہد اور قربانیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور مدینہ میں اسلامی معاشرے کے قیام کی راہ ہموار کی، جو اسلامی تاریخ کا ایک سنگ میل ہے۔
