شخصیات

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا

ام المؤمنین اور قیدیوں کی رہائی کا باعث

حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا (وفات 50 ہجری / 670 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ آپ کا شمار ان خوش نصیب خواتین میں ہوتا ہے جن کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور یہ نکاح مسلمانوں کے لیے بہت بڑی برکت اور فتح کا سبب بنا۔ آپ کا اصل نام برّہ تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تبدیل کر کے جویریہ رکھا۔

ابتدائی زندگی اور قبیلہ بنو مصطلق سے تعلق

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو مصطلق سے تھا، جو خزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ آپ اپنے قبیلے کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ بنو مصطلق مکہ کے قریب رہنے والا ایک جنگجو قبیلہ تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد بھی وہ اسلام کے خلاف سرگرم رہے تھے۔

غزوۂ بنی مصطلق اور نکاحِ نبوی ﷺ

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ غزوۂ بنی مصطلق (بھی غزوۂ مریسیع کے نام سے مشہور، 5 ہجری / 627 عیسوی) سے جڑا ہے۔

غزوہ اور قید: بنو مصطلق نے مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کی تھی، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ اس جنگ میں بہت سے مرد قتل ہوئے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا، جن میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔

جویریہؓ کا حصہ بننا: جنگی روایات کے مطابق، قیدیوں کو مالِ غنیمت کے طور پر تقسیم کیا گیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ انہوں نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت (آزادی کے لیے رقم ادا کرنے کا معاہدہ) کی درخواست کی اور وہ رقم جمع کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کی غرض سے آئیں۔

نبی کریم ﷺ سے ملاقات اور نکاح: جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی صورتحال بیان کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود مکاتبت کی رقم ادا کرنے اور ان سے نکاح کرنے کی پیشکش فرمائی۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے اس پیشکش کو قبول فرما لیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے 5 ہجری میں نکاح کر لیا۔

نکاح کی برکت: قیدیوں کی رہائی

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نکاح مسلمانوں کے لیے بہت بڑی برکت اور قبیلہ بنو مصطلق کے قیدیوں کی رہائی کا باعث بنا۔

صحابہ کا ایثار: جب صحابہ کرام کو یہ علم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا ہے، جو کہ اب ام المؤمنین ہیں، تو انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اب قبیلہ بنو مصطلق کے قیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے بن گئے ہیں۔ یہ بات ان کے لیے باعث شرم تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو قیدی بنا کر رکھیں۔ چنانچہ، تمام صحابہ کرام نے اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو فی الفور آزاد کر دیا۔

اسلام میں داخلہ: اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر، قبیلہ بنو مصطلق کے بہت سے افراد نے اسلام قبول کر لیا، جن میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد حارث بن ابی ضرار بھی شامل تھے۔ اس طرح، یہ نکاح ایک جنگ کو امن اور اسلام کی ترویج میں بدلنے کا ذریعہ بنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “میں نے کسی عورت کو حضرت جویریہ سے زیادہ ان کی قوم کے لیے بابرکت نہیں دیکھا۔”

فضائل و مناقب اور وفات

علم و فضل: حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر علمِ دین حاصل کیا۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث بھی روایت کی ہیں، جو آپ کے علمی مقام کو ظاہر کرتی ہیں۔

عبادت گزاری: آپ بہت عبادت گزار تھیں اور ذکر و اذکار کا بہت اہتمام کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذکر و اذکار کی تعلیم بھی دی تھی۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 50 ہجری (670 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اسلام کی حکمتِ عملی، رحم دلی اور عدل کی ایک بہترین مثال ہے۔ ان کا نکاح محض ایک انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی اور معاشرتی حکمت عملی کا حصہ تھا جس نے ایک دشمن قبیلے کو دوست بنا لیا اور سینکڑوں افراد کو قید سے نجات دلا کر انہیں حلقہ بگوشِ اسلام کیا۔

Leave a Comment