شخصیات

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا (ہند بنت ابی امیہ، وفات 62 ہجری / 681 یا 682 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے تھیں۔ آپ کا شمار اسلام کی ابتدائی اور جلیل القدر خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور علم و حکمت میں بلند مقام حاصل کیا۔ آپ کو آپ کی ذہانت، فصاحت، فقہی بصیرت اور سیاسی سوجھ بوجھ کے لیے خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا اصل نام ہند تھا۔ آپ کے والد کا نام ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ المخزومی تھا، جو قریش کے سرداروں میں سے تھے اور اپنی سخاوت کی وجہ سے “زاد الرکب” (مسافروں کا توشہ) کہلاتے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر تھا۔

آپ کا پہلا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد المخزومی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا تھا، اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ اسلام قبول کیا۔

ہجرت اور قربانیاں

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسلام کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں۔

ہجرتِ حبشہ: آپ اپنے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام کی خاطر ہجرتِ حبشہ (پہلی ہجرت) کرنے والے ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھیں۔ آپ نے حبشہ میں کئی سال گزارے۔

ہجرتِ مدینہ کا مشکل سفر: حبشہ سے واپسی کے بعد، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کا حکم دیا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ہجرت کا سفر انتہائی دکھ بھرا تھا۔ انہیں ان کے قبیلے والوں نے روک لیا اور ان کے بیٹے سلمہ کو بھی ان سے جدا کر دیا۔ ایک سال تک وہ اپنے بیٹے سے جدا رہیں۔ بالآخر، اللہ کے فضل سے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مدینہ پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ واقعہ ان کے صبر، استقامت اور اللہ کی راہ میں عظیم قربانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں شدید زخمی ہوئے اور کچھ عرصے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس وقت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں اور ان کے چند چھوٹے بچے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی کفالت کے لیے 4 ہجری میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر تقریباً 50 سال تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً 57 سال تھی۔

علم و فضل اور فقہی بصیرت

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ازواجِ مطہرات میں سے ایک عظیم فقیہہ اور عالمہ تھیں۔

کثیر الروایات صحابیہ: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت بڑی تعداد میں احادیث روایت کی ہیں۔ آپ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والی صحابیہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ سے روایت کردہ احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر تمام کتب میں موجود ہیں۔

فتاویٰ اور اجتہاد: آپ فقہی مسائل میں گہرا ادراک رکھتی تھیں اور کئی مواقع پر اپنے اجتہاد سے مسائل کا حل پیش کیا۔ صحابہ کرام اور تابعین آپ سے مختلف شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

قرآن و سنت کا علم: آپ قرآن و سنت کے علوم سے واقف تھیں اور ان کی تشریح و توضیح میں مہارت رکھتی تھیں۔

سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمت

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے لیے بھی مشہور تھیں۔

صلح حدیبیہ میں اہم مشورہ: صلح حدیبیہ کے موقع پر، جب مسلمانوں کو حدیبیہ میں رک کر واپس جانا پڑا اور انہیں قریش کی شرائط سخت محسوس ہوئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو احرام کھولنے اور قربانی کرنے کا حکم دیا۔ لیکن صحابہ کرام غم و غصے کی وجہ سے تردد کا شکار تھے۔ اس مشکل گھڑی میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ دیا کہ آپ خود قربانی کریں اور اپنا احرام کھول دیں، صحابہ آپ کی پیروی کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورے پر عمل کیا اور صحابہ نے بھی فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی۔ یہ مشورہ اس نازک وقت میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس نے ایک بڑے فتنے کو ٹال دیا، جو آپ کی غیر معمولی ذہانت اور حکمت کی دلیل ہے۔

وفات

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے طویل عمر پائی اور آپ کی وفات 62 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی عمر تقریباً 84 سال تھی۔ آپ ازواجِ مطہرات میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والی صحابیہ تھیں۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اسلام کے لیے قربانی، علم، حکمت اور صبر کا ایک روشن مینار ہے۔ آپ نے نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مثالی ازدواجی زندگی گزاری بلکہ اپنی فکری اور علمی صلاحیتوں سے بھی امت مسلمہ کی گراں قدر خدمت کی۔

Leave a Comment