شخصیات

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ: رسول اللہ ﷺ کے جانثار اور بہادر سپہ سالار

حضرت ابو دجانہ انصاری رضی اللہ عنہ، جن کا اصل نام سماک بن خرشہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ سے تھا۔ آپ اپنی غیر معمولی بہادری، جرات، دین سے والہانہ محبت اور جہاد فی سبیل اللہ میں بے مثال قربانیوں کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر غزوہ احد میں آپ کے کردار کو تاریخِ اسلام میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا تھا۔ آپ ان خوش نصیب انصاری صحابہ میں سے تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا عہد کیا۔ آپ کو مدینہ میں اپنے قبیلے میں ایک اہم اور دلیر شخص کے طور پر جانا جاتا تھا۔

جنگی مہارت اور بہادری

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اپنی جنگی مہارت اور بے باک بہادری کے لیے مشہور تھے۔ آپ جنگ میں ایک خاص پٹی باندھ کر لڑتے تھے جسے “پٹی الموت” کہا جاتا تھا، اور یہ پٹی اس بات کی علامت تھی کہ آپ موت سے نہیں ڈرتے اور میدان جنگ میں آخری سانس تک لڑیں گے۔

غزوہ احد میں نمایاں کردار

غزوہ احد (3 ہجری) میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا جس نے انہیں تاریخ میں امر کر دیا۔

تلوارِ نبوی ﷺ کا اعزاز: غزوہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار اٹھائی اور صحابہ سے پوچھا: “کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے گا؟” کئی صحابہ نے یہ اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن جب حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو انہوں نے پوچھا: “یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اس کا حق یہ ہے کہ اس سے دشمنوں پر اس طرح وار کیا جائے کہ وہ ٹوٹ نہ جائے۔” حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! میں اس کا حق ادا کروں گا!”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دی، اور انہوں نے اس تلوار کو لے کر اپنے سر پر ایک سرخ پٹی باندھی اور میدان جنگ میں ایسے گھومنے لگے جیسے کوئی شخص بہت زیادہ جوش میں ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا: “یہ ایسی چال ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتا مگر ایسے موقع پر۔”

دشمنوں پر حملہ: حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے یہ تلوار لے کر دشمنوں کی صفوں میں گھس کر شدید حملے کیے اور ان کے بڑے بڑے بہادروں کو ڈھیر کر دیا۔ آپ کفار کی صفوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرتے رہے اور تلوار کا حق ادا کیا۔ یہاں تک کہ آپ ہند بنت عتبہ کے قریب پہنچ گئے جو جنگ میں کفار کو ابھار رہی تھی، لیکن آپ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا: “یہ وہ تلوار ہے جس کا حق اس بات کا نہیں کہ اسے عورت پر استعمال کیا جائے۔”

نبی کریم ﷺ کا دفاع: جب غزوۂ احد میں حالات مسلمانوں کے خلاف ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید خطرہ لاحق ہوا تو حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا اور اپنے جسم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ آپ نے اپنی پشت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال بنا لیا تاکہ تیر اور تلوار کے وار آپ تک نہ پہنچیں۔ آپ کے جسم پر کئی زخم آئے، لیکن آپ اپنے مقام پر ثابت قدم رہے۔

دیگر غزوات اور وفات

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ احد کے علاوہ بھی تمام اہم غزوات اور مہمات میں شرکت کی اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔

جنگ یمامہ میں شہادت: حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی جنگ یمامہ (12 ہجری) میں شرکت کی، جو مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں آپ نے اسلامی فوج کی طرف سے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اسی جنگ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے باغِ موت (حدیقۃ الموت) میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت حاصل کی۔

میراث

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان، بہادری، ایثار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کا ایک روشن مینار ہے۔ آپ کی غزوہ احد میں قربانی اور جنگ یمامہ میں شہادت نے تاریخ اسلام پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ کا نام ہمیشہ اسلام کے عظیم شہداء اور سپہ سالاروں میں نمایاں رہے گا۔

Leave a Comment