حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (ولادت 10 ہجری قبل ہجرت یا 13 ہجری قبل ہجرت، وفات 74 ہجری / 693-694 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا اصل نام سعد بن مالک بن سنان تھا اور آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصاری قبیلہ خزرج سے تھا۔ آپ کا شمار کثیر الروایات صحابہ میں ہوتا ہے، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو امت تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کو فقہ اور علمِ قرآن میں بھی مہارت حاصل تھی اور آپ مدینہ کے بڑے علماء میں سے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کے والد، مالک بن سنان رضی اللہ عنہ، بھی صحابی رسول تھے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بہت کم عمری میں اسلام قبول کر لیا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خاندان کے ساتھ قریبی تعلق قائم کیا۔ آپ نے نوعمری میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کی خواہش ظاہر کی، لیکن آپ کی کم عمری کے سبب بعض غزوات میں اجازت نہیں ملی۔
غزوات میں شرکت
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے 15 سال کی عمر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہم غزوات میں شرکت کی:
غزوہ خندق: یہ آپ کا پہلا غزوہ تھا جہاں آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندہ (خندق کھودنے) کا کام کیا۔
غزوہ بنی قریظہ: اس جنگ میں بھی آپ شریک تھے۔
دیگر غزوات: آپ فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک سمیت کئی دیگر غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ رہے۔
علم و فضل اور احادیث کی روایت
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر تعداد میں احادیث روایت کی ہیں۔ آپ کا شمار ان سات صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک ہزار سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ آپ سے 1170 کے قریب احادیث مروی ہیں۔
قرآن و فقہ کا علم: آپ کو قرآن کے معانی اور فقہی مسائل کا گہرا علم تھا۔ آپ مدینہ کے ان معدودے چند علماء میں سے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتویٰ دیتے تھے اور لوگ آپ سے مسائل پوچھنے آتے تھے۔
عالی مرتبت راوی: آپ کی روایات صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد سمیت حدیث کی تقریباً تمام بڑی کتابوں میں موجود ہیں اور آپ کو ایک انتہائی ثقہ (قابل اعتماد) راوی تسلیم کیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ سے براہ راست سماع: آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزارا، جس کی وجہ سے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کا گہرا علم تھا۔
مسائلِ فتنہ پر روایات: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کی نشانیوں، آخر الزمان کے فتنوں اور دجال کے بارے میں بہت سی احادیث روایت کی ہیں۔
مدرس اور مفتی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، آپ نے مدینہ میں رہائش اختیار کی اور علمِ حدیث و فقہ کی تعلیم و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ آپ کے علم سے بے شمار تابعین نے استفادہ کیا، اور آپ مدینہ کے بڑے مفتیوں میں سے تھے۔
وفات
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے طویل عمر پائی اور 74 ہجری (693-694 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے وقت، اسلامی دنیا میں عظیم فتوحات ہو چکی تھیں اور علم و حکمت کا ایک نیا دور شروع ہو چکا تھا۔ آپ کی علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی میراث مسلمانوں کے لیے علمِ حدیث، فقہ اور تقویٰ کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے اپنی زندگی دین کی خدمت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حفاظت اور اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی روایت کردہ احادیث آج بھی امت مسلمہ کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔
