ابو العالیہ (پورا نام: رفیع بن مہران الریاحی) کا شمار جلیل القدر اور ممتاز تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ کوفہ اور بصرہ کے بڑے علماء میں سے تھے اور علمِ تفسیر، حدیث اور فقہ میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ آپ کی شخصیت کو محدثین اور فقہاء نے بہت سراہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
ابو العالیہ کا اصل نام رفیع بن مہران تھا اور آپ کی کنیت ابو العالیہ زیادہ مشہور ہوئی۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو ریاح کی ایک عورت سے بطور غلام تھا۔ آپ نے اسلام قبول کیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی آپ نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ قبول اسلام کے بعد آپ ایک طویل عرصے تک غلامی میں رہے، پھر آپ کی مالکہ نے آپ کو آزاد کر دیا۔ آپ کے آزاد ہونے کا واقعہ بھی دلچسپ ہے جس میں آپ کی مالکہ کو ان کے چچیرے بھائیوں نے روکا کہ اگر اسے آزاد کر دیا تو وہ کوفہ جا کر بالکل “مفقود الخبر” (لاپتہ) ہو جائے گا۔
علمی مقام اور اساتذہ:
ابو العالیہ علمی اعتبار سے ممتاز تابعین میں شمار ہوتے تھے۔ علامہ نوویؒ نے انہیں “کبار تابعین” میں سے قرار دیا ہے اور ابو القاسم طبری کا بیان ہے کہ ان کی توثیق (reliability) پر سب کا اتفاق ہے۔
آپ نے براہ راست کئی جلیل القدر صحابہ کرام سے علم حاصل کیا اور ان کے شاگرد رہے، جن میں سب سے نمایاں یہ ہیں:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: آپ نے خود بیان کیا کہ “میں نے حضرت عمرؓ کے دور میں تین مرتبہ قرآن پڑھا” (یعنی حفظ یا قرات مکمل کی)۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ: آپ تفسیر اور قرات میں حضرت ابی بن کعبؓ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
ابن ابی داؤد نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ “صحابہ کے بعد قرأت کا زیادہ علم ابو العالیہ کے علاوہ کسی کو نہ تھا۔”
علمی خدمات اور شاگرد
ابو العالیہ نے اپنی زندگی علم کی ترویج و اشاعت میں صرف کی۔ وہ خاص طور پر قرآن کی تفسیر اور قرأت میں ماہر تھے۔ ان کی تفسیری روایات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور ان کا شمار بڑے مفسرین میں ہوتا ہے۔
آپ کے شاگردوں میں کئی نامور علماء اور محدثین شامل ہیں جنہوں نے ان سے علم حاصل کیا اور ان کی روایات کو آگے بڑھایا:
قتادہ بن دعامہ: مشہور تابعی مفسر اور محدث۔
حسن بصری: بصرہ کے معروف تابعی اور زاہد۔
سعید بن ابی عروبہ
ربیع بن انس
وفات
ابو العالیہ کی وفات 90 ہجری میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر تقریباً 90 سال تھی۔ آپ نے ایک بھرپور علمی زندگی گزاری اور اسلامی علوم، خاص طور پر تفسیر قرآن اور حدیث کی خدمت کی۔ ابو العالیہ کی زندگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کیسے ایک غلامی کے پس منظر سے آنے والے شخص نے صرف اپنے علم اور جدوجہد سے اسلامی تاریخ میں ایک بلند مقام حاصل کیا۔ ان کا شمار ان تابعین میں ہوتا ہے جنہوں نے صحابہ کرام کے علم کو بعد کی نسلوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
