شخصیات

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ: حکیم الامۃ اور قاضی دمشق

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (وفات 32 ہجری / 652 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا اصل نام عُویمر بن زید بن قیس تھا اور آپ کا تعلق انصار کے قبیلے خزرج کی شاخ بنو حارث سے تھا۔ آپ اپنی غیر معمولی ذہانت، حکمت، زہد و تقویٰ اور علمِ قرآن و حدیث کے لیے مشہور تھے، اسی وجہ سے آپ کو “حکیم الامۃ” (امت کے دانا) کا لقب دیا گیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا تھا، حالانکہ ابتدا میں آپ بت پرستی سے وابستہ تھے۔ آپ کی اسلام قبول کرنے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ آپ کا ایک دوست تھا جس کا نام عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھا، جو اسلام قبول کر چکے تھے۔ ایک دن جب ابو الدرداء اپنے بت کی پوجا میں مشغول تھے، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی غیر موجودگی میں ان کے گھر میں داخل ہو کر بت کو توڑ دیا۔ جب ابو الدرداء واپس آئے اور اپنے بت کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو انہیں شدید غصہ آیا، لیکن پھر انہوں نے غور و فکر کیا اور یہ محسوس کیا کہ جو بت اپنا دفاع نہیں کر سکتا وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد وہ اپنے دوست عبداللہ بن رواحہ کے پاس گئے اور اسلام قبول کر لیا۔

آپ نے غزوۂ بدر میں دیر سے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے شرکت نہیں کی، لیکن اس کے بعد تمام بڑے غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

فضائل و مناقب

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کئی عظیم فضائل حاصل تھے:

حکیم الامۃ: آپ اپنی حکمت، دانشمندی اور گہری بصیرت کے لیے مشہور تھے اور اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو “حکیم الامۃ” کا لقب دیا۔ آپ کے اقوال زریں اور نصیحتیں لوگوں کے لیے رہنمائی کا باعث تھیں۔

قرآن کے حافظ اور عالم: آپ ان چند صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی پورا قرآن حفظ کر لیا تھا۔ آپ کو قرآن کے معانی اور تفسیر کا گہرا علم تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دمشق میں قاضی اور قرآن کا معلم بنا کر بھیجا تھا۔

علمِ حدیث: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر تعداد میں احادیث روایت کرنے والے صحابہ میں سے تھے۔ آپ کی روایات حدیث کی تمام بڑی کتب (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) میں موجود ہیں۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کو نہایت احتیاط سے بیان کیا۔

زہد و تقویٰ: آپ دنیاوی آسائشوں سے بے رغبتی اور زاہدانہ زندگی کے لیے مشہور تھے۔ آپ راتوں کو عبادت کرتے اور دن کو روزے رکھتے۔ آپ نے دنیا کو ایک گزرگاہ سمجھا اور آخرت کی تیاری پر زور دیا۔

عبادت گزاری: آپ بہت زیادہ نوافل پڑھتے، ذکر و اذکار کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔

قاضی دمشق اور تعلیم و تربیت: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، جب شام کی فتوحات مکمل ہوئیں، تو انہوں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو دمشق کا قاضی (جج) اور مسلمانوں کو قرآن و دین کی تعلیم دینے کے لیے مقرر کیا۔ آپ نے شام میں بہت سے شاگرد پیدا کیے اور علم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔

اہم واقعات اور اقوال

سلمان فارسیؓ سے بھائی چارہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے درمیان مؤاخات (بھائی چارہ) قائم فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسیؓ نے ابو الدرداءؓ کو ان کی بیوی کے بارے میں سمجھایا کہ ان کا بھی حق ہے، اور رات میں نماز کے ساتھ سونے کا بھی حق ہے، اور دن میں روزے کے ساتھ کھانے کا بھی حق ہے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان کی تائید کی۔ (صحیح بخاری) یہ واقعہ آپ کی صحابہ کے ساتھ گہرے تعلقات اور دین میں توازن کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

حکمت کے اقوال: آپ کے مشہور اقوال میں سے ایک یہ ہے: “مرنا تو ہمیشہ آسانی سے آ سکتا ہے، لیکن اعمال کا وزن قیامت کے دن بہت بھاری ہو گا۔”

وفات

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 32 ہجری (652 عیسوی) میں شام کے شہر دمشق میں وفات پائی۔ انہیں دمشق ہی میں دفن کیا گیا، جہاں ان کا مزار آج بھی موجود ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر علم، عمل اور دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی علمی، حکیمانہ اور عملی خدمات اسلامی تاریخ میں ایک اہم باب ہیں۔ آپ کی حکمت، قرآن سے محبت اور سنت پر عمل نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثالی نمونہ قائم کیا۔

Leave a Comment