تفہیم القرآن جلد اول

۱۶-مطلب یہ ہے کہ جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے،  صحیح کو غلط سے،  راہِ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کر دیا،  تو جو لوگ دیدہ ٴ بینا رکھتے تھے،  ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہو گئیں، مگر یہ منافق،  جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے،  ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا۔’’ اللہ نے نورِ بصارت سلب کر لیا‘‘ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے۔ اللہ نورِ بصیرت اسی کا سلب کرتا ہے،  جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے،  خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب اُنہوں نے نورِ حق سے منہ پھیر کر ظلمتِ باطل ہی میں بھٹکنا چاہا تو اللہ نے انہیں اسی کی توفیق عطا فرما دی۔

۱۷-حق بات سُننے کے لیے بہرے،  حق گوئی کے لیے گونگے،  حق بینی کے لیے اندھے۔

۱۸-یعنی کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس کر وہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لیے اس غلط فہمی میں تو ڈال سکتے ہیں کہ ہلاکت سے بچ جائیں گے مگر فی الواقع اس طرح وہ بچ نہیں سکتے کیونکہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان پر محیط ہے۔

۱۹-پہلی مثال اُن منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے۔ اور یہ دُوسری مثال اُن کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعفِ ایمان میں مبتلا تھے،  کچھ حق کے قائل بھی تھے،  مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مُراد مشکلات و مصائب کا وہ، ہُجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریکِ اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آ رہا تھا۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تو یہ چل پڑتے ہیں،  اور جب مشکلات کے دَلْ بادَل چھانے لگتے ہیں، یا ایسے احکام دیے جاتے ہیں جن سے ان کے خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصّبات ِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے،  تو ٹھِٹک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

۲۰-یعنی جس طرح پہلی قسم کے منافقین کا نورِ بصیرت اس نے بالکل سَلب کر لیا، اسی طرح اللہ ان کو بھی حق کے لیے اندھا بہرا بنا سکتا تھا۔ مگر اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ جو کسی حد تک دیکھنا اور سُننا چاہتا ہو، اسے اُتا بھی نہ دیکھنے سُننے دے۔ جس قدر حق دیکھنے اور حق سُننے کے لیے یہ تیار تھے،  اسی قدر سماعت و بصارت اللہ نے ان کے پاس رہنے دی۔