(١) جو کام رائج الوقت شرحِ سُود کے برابر نفع نہ لا سکتے ہوں، چاہے ملک اور قوم کے لیے کتنے ہی ضروری اور مفید ہوں، ان پر لگانے کے لیے روپیہ نہیں ملتا اور ملک کے تمام مالی وسائل کا بہا ؤ ایسے کاموں کی طرف ہو جاتا ہے، جو بازار کی شرحِ سُود کے برابر یا اس سے زیادہ نفع لا سکتے ہوں، چاہے اجتماعی حیثیت سے ان کی ضرورت اور ان کا فائدہ بہت کم ہو یا کچھ بھی نہ ہو۔
(۲) جن کاموں کے لیے سُود پر سرمایہ ملتا ہے، خواہ وہ تجارتی کام ہوں یا صنعتی یا زراعتی، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس میں اس امر کی ضمانت موجود ہو کہ ہمیشہ تمام حالات میں اس کا منافع ایک مقرر میعاد، مثلاً پانچ، چھ یا دس فیصدی تک یا اس سے اُوپر اُوپر ہی رہے گا اور کبھی اس سے نیچے نہیں گرے گا۔ اِس کی ضمانت ہو نا تو درکنار، کسی کاروبار میں سرے سے اِس بات کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے کہ اس میں ضرور منافع ہی ہو گا، نقصان کبھی نہ ہو گا۔ لہٰذا کسی کاروبار میں ایسے سرمایے کا لگنا جس پر سرمایہ دار کو ایک مقرر شرح کے مطابق منافع دینے کی ضمانت دی گئی ہو، نقصان اور خطرے کے پہلوؤں سے کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔
(۳) چونکہ سرمایہ دینے والا کاروبار کے نفع و نقصان میں شریک نہیں ہوتا بلکہ صرف منافع اور وہ بھی ایک مقرر شرحِ منافع کی ضمانت پر روپیہ دیتا ہے، اس وجہ سے کاروبار کی بھلائی اور بُرائی سے اس کو کسی قسم کی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ انتہائی خود غرضی کے ساتھ صرف اپنے منافع پر نگاہ رکھتا ہے، اور جب کبھی اسے ذرا سا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے کہ منڈی پر کساد بازاری کا حملہ ہونے والا ہے، تو وہ سب سے پہلے اپنا روپیہ کھینچنے کی فکر کرتا ہے۔ اِس طرح کبھی تو محض اس کے خود غرضانہ اندیشوں ہی کی بدولت دنیا پر کساد بازاری کا واقعی حملہ ہو جاتا ہے، اور کبھی اگر دُوسرے اسباب سے کساد بازاری آ گئی ہو تو سرمایہ دار کی خود غرضی اس کو بڑھا کر انتہائی تباہ کُن حد تک پہنچا دیتی ہے۔
سُود کے یہ تین نقصانات تو ایسے صریح ہیں کہ کوئی شخص جو علم المعیشت سے تھوڑا سا مَس بھی رکھتا ہو ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد یہ مانے بغیر کیا چارہ ہے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کے قانونِ فطرت کی رُو سے سود معاشی دولت کو بڑھاتا نہیں بلکہ گھٹاتا ہے۔
