(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اس نے کہا کہ ’’اے عیسیٰ !اب میں تجھے واپس لے لوں گا ۵۱ اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے ) تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالا دست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے۔۵۲ پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مدد گار نہ پائیں گے، اور جنھوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہّ اختیار کیا ہے انہیں ان کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے۔ اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہر گز محبت نہیں کرتا‘‘۔یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا۔۵۳ یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں۔۵۴ یہ علم آ جانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمد ؐ!اس سے کہو کہ’’ آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو‘‘۔۵۵ یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظامِ عالم میں کار فرما ہے۔ پس اگر یہ لوگ(اس شرط پر مقابلہ میں آنے سے ) منہ موڑیں تو(ان کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے۔ ؏٦
Page 168 of 213
Prev Next