تفہیم القرآن جلد اول

۶۲-یہ اُس دَور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دُنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی، جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علمِ حق تھا اور جسے اقوامِ عالم کا امام و رہنما بنا دیا گیا تھا، تاکہ وہ بندگیِ ربّ کے راستے پر سب قوموں کو بُلائے اور چلائے۔

۶۳-بنی اسرائیل کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ آخرت کے متعلق ان کے عقیدے میں خرابی آ گئی تھی۔ وہ اس قسم کے خیالاتِ خام میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ہم جلیل القدر انبیا کی اولاد ہیں، بڑے بڑے اَولیا، صُلحا اور زُہاد سے نسبت رکھتے ہیں، ہماری بخشش تو اُنہیں بزرگوں کے صدقے میں ہو جائے گی، ان کا دامن گرفتہ ہو کر بھلا کوئی سزا کیسے پا سکتا ہے۔ اِنہیں جھُوٹے بھروسوں نے ان کو دین سے غافل اور گناہوں کے چکّر میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس لیے نعمت یاد دلانے کے ساتھ فوراً ہی ان کی اِن غلط فہمیوں کو دُور کر دیا گیا ہے۔

۶۴-یہاں سے بعد کے کئی رکوعوں تک مسلسل جن واقعات کی طرف اشارے کیے گئے ہیں،  وہ سب بنی اسرائیل کی تاریخ کے مشہور ترین واقعات ہیں،  جنہیں اس قوم کا بچّہ بچّہ جانتا تھا۔ اسی لیے تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک ایک واقعہ کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔ اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصُود ہے کہ ایک طرف یہ اور یہ احسانات ہیں جو خدا نے تم پر کیے،  اور دُوسری طرف یہ اور یہ کرتُوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے۔

۶۵-’’اٰلِ فِرْعَو ْن‘‘ کا ترجمہ ہم نے اس لفظ سے کیا ہے۔ اس میں خاندانِ فراعنہ اور مصر کا حکمراں طبقہ دونوں شامل ہیں۔

۶۶-آزمائش اس امر کی کہ اس بھٹّی سے تم خالص سونا بن کر نکلتے ہو یا نِری کھوٹ بن کر رہ جاتے ہو۔ اَور آزمائش اس امر کی کہ اتنی بڑی مصیبت سے اس معجزانہ طریقہ پر نجات پانے کے بعد بھی تم اللہ کے شکر گزار بندے بنتے ہو یا نہیں۔

۶۷-مصر سے نجات پانے بے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے،  تو حضرت موسیٰؑ  کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لے ی کوہ ِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے،  جواب آزاد ہو چکی تھی، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل، کتابِ خروج،  باب ۲۴ تا ۳۱)

۶۸-گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا۔ حضرت یوسفؑ  کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے جن جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج،  باب ۳۲ میں تفصیل کے ساتھ درج ہے )