(۲)حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے دو بڑی شاخیں نکلیں: ایک حضرت اسماعیلؑ کی اولاد جو عرب میں رہی۔ قریش اور عرب کے بعض دُوسرے قبائل کا تعلق اسی شاخ سے تھا۔ اور جو عرب قبیلے نسلاً حضرت اسماعیلؑ کی اولاد نہ تھے وہ بھی چونکہ اُن کے پھیلائے ہوئے مذہب سے کم و بیش متاثر تھے، اس لیے وہ اپنا سلسلہ انہی سے جوڑتے تھے۔ دُوسرے حضرت اسحاقؑ کی اولاد، جن میں حضرات یعقوبؑ ، یوسفؑ ، موسیٰؑ ، داؤدؑ ، سلیمانؑ ، یحییٰؑ ، عیسیٰؑ اور بہت سے انبیا علیہم السّلام پیدا ہوئے اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، حضرت یعقوبؑ کا نام چونکہ اسرائیل تھا اس لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اُن کی تبلیغ سے جن دُوسری قوموں نے اُن کا دین قبول کیا، انہوں نے یا تو اپنی انفرادیّت ہی اُن کے اندر گم کر دی، یا وہ نسلاً تو اُن سے الگ رہے، مگر مذہباً اِن کے متِبع رہے۔ اسی شاخ میں جب پستی و تنزّل کا دَور آیا، تو پہلے یہُودیّت پیدا ہوئی اور پھر عیسائیت نے جنم لیا۔
(۳)حضرت ابراہیمؑ کا اصل کام دُنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بُلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا۔ وہ خود اللہ کے مطیع تھے، اس کے دیے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے، دنیا میں اُس علم کو پھیلاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب اِنسان مالکِ کائنات کے مطیع ہو کر رہیں۔ یہی خدمت تھی، جس کے لیے وہ دُنیا کے امام و پیشوا بنائے گئے تھے۔ اُن کے بعد یہ امامت کا منصب اُن کی نسل کی اُس شاخ کو مِلا، جو حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ اسی میں انبیا پیدا ہوتے رہے، اسی کو راہِ راست کا علم دیا گیا، اسی کے سپر د یہ خدمت کی گئی کہ اس راہِ راست کی طرف اقوامِ عالم کی رہنمائی کرے، اور یہی وہ نعمت تھی، جسے اللہ تعالیٰ بار بار اس نسل کے لوگوں کو یاد دلا رہا ہے۔ اس شاخ نے حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں بیت المَقْدِس کو اپنا مرکز قرار دیا۔ اس لیے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر قائم رہی، بیت المقدس ہی دعوت اِلی اللہ کا مرکز اور خدا پرستوں کا قبلہ رہا۔
(۴)پچھلے دس رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے اُن کی تاریخی فردِ قرار دادِ جُرم اور ان کی وہ موجودہ حالت، جو نزولِ قرآن کے وقت تھی، بے کم و کاست پیش کر دی ہے اور ان کو بتا دیا ہے کہ تم ہماری اُس نعمت کی انتہائی ناقدری کر چکے ہو جو ہم نے تمہیں دی تھی۔ تم نے صرف یہی نہیں کیا کہ منصبِ امامت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا، بلکہ خود بھی حق اور راستی سے پھر گئے، اور اب ایک نہایت قلیل عنصرِ صالح کے سوا تمہاری پُوری اُمت میں کوئی صلاحیّت باقی نہیں رہی ہے۔
(۵)اس کے بعد اب انھیں بتایا جا رہا ہے کہ امامت ابراہیمؑ کے نُطفے کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ اس سچّی اطاعت و فرماں برداری کا پھل ہے، جس میں ہمارے اُس بندے نے اپنی ہستی کو گم کر دیا تھا، اور اس کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں، جو ابراہیمؑ کے طریقے پر خود چلیں اور دُنیا کو اس طریقے پر چلانے کی خدمت انجام دیں۔ چونکہ تم اس طریقے سے ہٹ گئے ہو اور اس خدمت کی اہلیت پُوری طرح کھو چکے ہو، لہٰذا تمہیں امامت کے منصب سے معزُول کیا جا تا ہے۔
