تفہیم القرآن جلد اول

(۶)ساتھ ہی اشاروں اشاروں میں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ جو غیر اسرائیلی قومیں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السّلام کے واسطے سے حضرت ابراہیمؑ  کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر کرتے ہیں، محض نس و نسب کے فخر کو لیے بیٹھے ہیں۔ ورنہ ابراہیمؑ  و اسماعیلؑ  کے طریقے سے اب ان کو دُور کا واسطہ بھی نہیں رہا ہے۔ لہٰذا ان میں سے بھی کوئی امامت کا مستحق نہیں ہے۔

(۷)پھر یہ بات ارشاد ہوتی ہے کہ اب ہم نے ابراہیمؑ  کی دُوسری شاخ، بنی اسماعیلؑ  میں و ہ رسُول ؐ پیدا کیا ہے،  جس کے لیے ابراہیمؑ  اور اسماعیلؑ  نے دُعا کی تھی۔ اس کا طریقہ وہی ہے،  جو ابراہیمؑ ،  اسماعیلؑ ،  اسحاقؑ ،  یعقوبؑ  اور دُوسرے تمام انبیا کا تھا۔ وہ اور اس کے پیرو تمام ان پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں جو دنیا میں خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی راستہ کی طرف دُنیا کو بُلاتے ہیں جس کی طرف سارے انبیا دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا اب امامت کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اس رسول کی پیروی کریں۔

(۸)تبدیلِ  امامت کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی قدرتی طور پر تحویلِ قبلہ کا اعلان ہونا بھی ضروری تھا۔ جب تک بنی اسرائیل کی امامت کا دَور تھا، بیت المقدس مرکزِ دعوت رہا اور وہی قبلۂ  اہلِ حق بھی رہا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے پیرو بھی اس وقت تک بیت المقدس ہی کو قبلہ بنائے رہے۔ مگر جب بنی اسرائیل اس منصب سے باضابطہ معزُول کر دیے گئے،  تو بیت المقدس کی مرکزیّت آپ سے آپ ختم ہو گئی۔ لہٰذا اعلان کیا گیا کہ اب وہ مقام دینِ الٰہی کا مرکز ہے،  جہاں سے اِس رسُول کی دعوت کا ظہُور ہوا ہے۔ اور چونکہ ابتدا میں ابراہیمؑ  کی دعوت کا مرکز بھی یہی مقام تھا، اس لیے اہلِ کتاب اور مشرکین،  کسی کے لیے بھی تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ قبلہ ہونے کا زیادہ حق کعبے ہی کو پہنچتا ہے۔ ہٹ دھرمی کی بات دُوسری ہے کہ وہ حق کو حق جانتے ہوئے بھی اعتراض کیے چلے جائیں۔

۱۲۴-قرآن میں مختلف مقامات پر اُن تمام سخت آزمائشوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے،  جن سے گزر کر حضرت ابراہیمؑ  نے اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کیا تھا کہ انہیں بنی نوعِ انسان کا امام و رہنما بنایا جائے۔ جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا، اس وقت سے لے کر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی سراسر قربانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں، جن سے انسان محبّت کرتا ہے،  اُن میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی،  جس کو حضرت ابراہیمؑ  نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو۔ اور دنیا میں جتنے خطرات ایسے ہیں،  جن سے آدمی ڈرتا ہے،  اُن میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا،  جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔

۱۲۵-یعنی یہ وعدہ تمہاری اولاد کے صرف اُس حصّے سے تعلق رکھتا ہے جو صالح ہو۔ ان میں سے جو ظالم ہوں گے،  اُن کے لیے یہ وعدہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بات خود ظاہر ہو جاتی ہے کہ گمراہ یہُودی اور مشرک بنی اسمٰعیل اس وعدے کے مصداق نہیں ہیں۔

۱۲۶-پاک رکھنے سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ کُوڑے کرکٹ سے اُسے پاک رکھا جائے۔ خدا کے گھر کی اصل پاکی یہ ہے کہ اس میں خدا کے سوا کسی کا نام بلند نہ ہو۔ جس نے خانۂ  خدا میں خدا کے سوا کسی دُوسرے کو مالک،  معبُود، حاجت روا اور فریاد رس کی حیثیت سے پکارا، اس نے حقیقت میں اُسے گندا کر دیا۔ یہ آیت ایک نہایت لطیف طریقے سے مشرکینِ قریش کے جُرم کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ ظالم لوگ ابراہیمؑ  اور اسماعیلؑ  کے وارث ہونے پر فخر تو کرتے ہیں،  مگر وراثت کا حق ادا کرنے کے بجائے اُلٹا اس حق کو پامال کر رہے ہیں۔ لہٰذا جو وعدہ ابراہیمؑ  سے کیا گیا تھا، اس سے جس طرح بنی اسرائیل مستثنیٰ ہو گئے ہیں، اسی طرح یہ مشرک بنی اسمٰعیل بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔

۱۲۷-حضرت ابراہیمؑ  نے جب منصبِ امامت کے متعلق پوچھا تھا، تو ارشاد ہوا تھا کہ اس منصب کا وعدہ تمہاری اولاد کے صرف مومن و صالح لوگوں کے لیے ہے،  ظالم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کے بعد جب حضرت ابراہیمؑ  رزق کے لیے دُعا کر نے لگے،  تو سابق فرمان کو پیشِ نظر رکھ کر اُنہوں نے صرف اپنی مومن اولاد ہی کے لیے دُعا کی، مگر اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس غلط فہمی کو فوراً رفع فرما دیا اور انہیں بتایا کہ امامتِ صالحہ اَور چیز ہے اور رزقِ  دُنیا دُوسری چیز۔ امامتِ صالحہ صرف مومنینِ صالح کو ملے گی، مگر رزقِ دُنیا مومن و کافر سب کو دیا جائے گا۔ اس سے یہ بات خود بخود نِکل آئی کہ اگر کسی کو رزقِ دُنیا فراوانی کے ساتھ مِل رہا ہو، تو وہ اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور وہی خدا کی طرف سے پیشوائی کا مستحق بھی ہے۔

۱۲۸-زندگی سنوارنے میں خیالات، اخلاق،  عادات، معاشرت، تمدّن، سیاست، غرض ہر چیز کو سنوارنا شامل ہے۔

۱۲۹-اس سے یہ بتانا مقصُود ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ظہُور دراصل حضرت ابراہیمؑ  کی دُعا کا جواب ہے۔