تفہیم القرآن جلد اول

اب کو ن ہے،  جو ابراہیمؑ  کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو،  اس کے سوا کو ن یہ حرکت کر سکتا ہے ؟ ابراہیمؑ  تو وہ شخص ہے،  جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کا م کے لیے چن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہو گا۔ اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا، ’’مسلم ہو جا ۱۳۰، ‘‘ تو اس نے فوراً کہا ’’میں مالک کائنات‘‘ کا ’’مسلم ہو گیا‘‘۔اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ  ۱۳۱ اپنی اولاد کو کر گیا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’میرے بچو، اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔۱۳۲ لہٰذا مرتے دم تک تم مسلم ہی رہنا۔‘‘ پھر کیا تم اس وقت موجو د تھے جب یعقوبؑ  اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟ اس نے مر تے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ’’بچو!میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ ‘‘ ان سب نے جواب دیا ’’ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے،  جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ ،  اسماعیلؑ  اور اسحاقؑ  نے خدا مانا ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔۱۳۳‘‘وہ کچھ لوگ تھے،  جو گزر گئے۔ جو کچھ انھوں نے کمایا۔ وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔۱۳۴ یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے۔ عیسا ئی کہتے ہیں : عیسائی ہو،  تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو: ’’نہیں،  بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ  کا طریقہ۔ اور ابراہیمؑ  مشرکوں میں سے نہ تھا۔۱۳۵‘‘ مسلمانو! کہو کہ ’’ہم ایمان لائے او راس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ ،  اسماعیلؑ ،  اسحاقؑ ،  یعقوبؑ  اور اولاد یعقوبؑ  کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ  اور عیسیٰؑ ؑ  اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ۱۳۶۔‘‘ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں،  جس طرح تم لائے ہو،  تو ہدایت پر ہیں،  اور اگر اس سے منہ پھیریں،  تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں۔ لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ کہو:’’اللہ کا رنگ اختیار کرو۔۱۳۷ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ اے نبی! ان سے کہو: ’’کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔۱۳۸ ہمارے اعمال ہمارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے،  اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں۔۱۳۹ یا پھر کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ ،  اسماعیلؑ ،  اسحاقؑ ،  یعقوبؑ  اور اولاد یعقوبؑ  سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہو ’’تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟۱۴۰ اس شخص سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے۔۱۴۱ وہ کچھ لوگ تھے،  جو گزر چکے۔ ان کی کمائی ان کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔  ؏١٦
 

۱۳۰-مُسْلِم: وہ جو خدا کے آگے سرِ اطاعت خَم کر دے،  خدا ہی کو اپنا مالک، آقا،  حاکم اور معبُود مان لے،  جو اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے سپرد کر دے اور اُس ہدایت کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے،  جو خدا کی طرف سے آئی ہو۔ اس عقیدے اور اس طرزِ عمل کا نام’’ اسلام‘‘ ہے اور یہی تمام انبیا کا دین تھا جو ابتدائے آفرینش سے دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں آئے۔

۱۳۱-حضرت یعقوبؑ  کا ذکر خاص طور پر اُس لیے فرمایا کہ بنی اسرائیل براہِ راست انھیں کی اولاد تھے۔