۱۳۲-دین، یعنی طریقِ زندگی، نظام حیات، وہ آئین جس پر انسان دنیا میں اپنے پُورے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کی بنا رکھے۔
۱۳۳-بائیبل میں حضرت یعقوبؑ کی وفات کا حال بڑی تفصیل سے لکھا گیا ہے، مگر حیرت ہے کہ اس وصیّت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ تَلْموُد میں جو مفصّل وصیّت درج ہے، اس کا مضمون قرآن کے بیان سے بہت مشابہ ہے۔ اس میں حضرت یعقوبؑ کے یہ الفاظ ہمیں ملتے ہیں:
’’خداوند اپنے خدا کی بندگی کرتے رہنا، وہ تمہیں اُسی طرح تمام آفات سے بچائے گا، جس طرح تمہارے آبا ؤ اجداد کو بچاتا رہا ہے۔۔۔۔۔ اپنے بچوں کو خدا سے محبت کرنے اور اس کے احکام بجا لانے کی تعلیم دینا تاکہ ان کی مُہلتِ زندگی دراز ہو، کیوں کہ خدا ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے، جو حق کے ساتھ کام کرتے ہیں، اور اس کی راہوں پر ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں۔‘‘ جواب میں اُن کے لڑکوں نے کہا: ’’جو کچھ آپ نے ہدایت فرمائی ہے ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔ خدا ہمارے ساتھ ہو!‘‘ تب یعقوبؑ نے کہا ’’اگر تم خدا کی سیدھی راہ سے دائیں یا بائیں نہ مڑو گے، تو خدا ضرور تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘
۱۳۴-یعنی اگرچہ تم اُن کی اولاد سہی، مگر حقیقت میں تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ اُن کا نام لینے کا تمہیں کیا حق ہے جبکہ تم اُن کے طریقے سے پھر گئے۔ اللہ کے ہاں تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے۔
اور یہ جو فرمایا کہ ’’جو کچھ اُنہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کما ؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے، ‘‘ یہ قرآن کا خاص اندازِ بیان ہے۔ ہم جس چیز کو فعل یا عمل کہتے ہیں، قرآن اپنی زبان میں اسے کسب یا کمائی کہتا ہے۔ ہمارا ہر عمل اپنا ایک اچھا یا بُرا نتیجہ رکھتا ہے، جو خدا کی خوشنودی یا ناراضگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ وہی نتیجہ ہماری کمائی ہے۔ چونکہ قرآن کی نگاہ میں اصل اہمیّت اسی نتیجے کی ہے، اس لیے اکثر وہ ہمارے کاموں کو عمل و فعل کے الفاظ سے تعبیر کرنے کے بجائے ’’کسب‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔
۱۳۵-اس جواب کی لطافت سمجھنے کے لیے دو باتیں ذہن میں رکھیے :
