ایک یہ کہ یہُودیّت اور عیسائیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں۔ ’’یہُودیّت‘‘ اپنے اِس نام اور اپنی مذہبی خصُوصیات اور رسُوم و قواعد کے ساتھ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئی۔ اور ’’عیسائیت ‘‘ جن عقائد اور مخصُوص مذہبی تصوّرات کے مجمُوعے کا نام ہے وہ تو حضرت مسیحؑ کے بھی ایک مُدت بعد وجود میں آئے ہیں۔ اب یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے برسرِ ہدایت ہونے کا مدار یہُودیّت یا عیسائیت اختیار کرنے ہی پر ہے، تو حضرت ابراہیمؑ اور دُوسرے انبیا اور نیک لوگ، جو اِن مذہبوں کی پیدائش سے صدیوں پہلے پیدا ہوئے تھے اور جن کو خود یہُودی اور عیسائی بھی ہدایت یافتہ مانتے ہیں، وہ آخر کس چیز سے ہدایت پاتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ ’’یہُودیّت‘‘ اور ’’عیسائیت‘‘ نہ تھی۔ لہٰذا یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ انسان کے ہدایت یافتہ ہونے کا مدار اُن مذہبی خصُوصیّات پر نہیں ہے، جن کی وجہ سے یہ یہُودی اور عیسائی وغیرہ مختلف فرقے بنے ہیں، بلکہ دراصل اس کا مدار اُس عالمگیر صراطِ مستقیم کے اختیار کرنے پر ہے، جس سے ہر زمانے میں انسان ہدایت پاتے رہے ہیں۔
دُوسرے یہ کہ خود یہُود و نصاریٰ کی اپنی مقدس کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ ایک اللہ کے سوا کسی دُوسرے کی پرستش، تقدیس، بندگی اور اطاعت کے قائل نہ تھے اور ان کا مشن ہی یہ تھا کہ خدائی کی صفات و خصُوصیات میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھیرایا جائے۔ لہٰذا یہ بالکل ظاہر ہے کہ یہُودیت اور نصرانیت دونوں اُس راہِ راست سے منحرف ہو گئی ہیں، جس پر حضرت ابراہیمؑ چلتے تھے، کیونکہ ان دونوں میں شرک کی آمیزش ہو گئی ہے۔
۱۳۶-پیغمبروں کے درمیان تفریق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُن کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتے کہ فلاں حق پر تھا اور فلاں حق پر نہ تھا یا یہ کہ ہم فلاں کو مانتے ہیں اور فلاں کو نہیں مانتے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر بھی آئے ہیں، سب کے سب ایک ہی صداقت اور ایک ہی راہِ راست کی طرف بُلانے آئے ہیں۔ لہٰذا جو شخص صحیح معنی میں حق پرست ہے، اُس کے لیے تمام پیغمبروں کو برحق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ جو لوگ کسی پیغمبر کو مانتے اور کسی کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں اُس پیغمبر کے بھی پیرو نہیں ہیں، جسے وہ مانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دراصل اُس عالمگیر صراطِ مستقیم کو نہیں پایا ہے، جسے حضرت موسیٰؑ یا عیسیٰؑ یا کسی دُوسرے پیغمبر نے پیش کیا تھا، بلکہ وہ محض باپ دادا کی تقلید میں ایک پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اُن کا اصل مذہب نسل پرستی کا تعصّب اور آبا و اجداد کی اندھی تقلید ہے، نہ کہ کسی پیغمبر کی پیروی۔
