۲۲-مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو دنیا کی ساری زینتیں اور پاکیزہ چیزیں بندوں ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اس لیے اللہ کا منشاء تو بہر حال یہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں بندوں کے لیے حرام کر دے۔ اب اگر کوئی مذہب یا کوئی نظامِ اخلاق و معاشرت ایسا ہے جو انہیں حرام، یا قابلِ نفرت، یا ارتقائے روحانی میں سدِّ راہ قرار دیتا ہے تو اس کا یہ فعل خود ہی اس بات کا کھُلا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ یہ بھی اُن حجتوں میں سے ایک اہم حجت ہے جو قرآن نے مذاہب باطلہ کے رد میں پیش کی ہیں، اور اس کو سمجھ لینا قرآن کے طرزِ استدلال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
۲۳-یعنی حقیقت کے اعتبار سے تو خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان ہی کے لیے ہیں، کیونکہ وہی خدا کی وفادار رعایا ہیں اور حقِ نمک صرف نمک حلالوں ہی کو پہچانتا ہے۔ لیکن دنیا کا موجودہ انتظام چونکہ آزمائش اور مہلت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے، اس لیے یہاں اکثر خدا کی نعمتیں نمک حراموں پر بھی تقسیم ہوتی رہتی ہیں اور بسا اوقات نمک حلالوں سے بڑھ کر انہیں نعمتوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ البتہ آخرت میں (جہاں کا سارا انتظام خالص حق کی بنیا دپر ہو گا) زندگی کی آرائشیں اور رزق کے طیبات سب کے سب محض نمک حلالوں کے لیے مخصوص ہوں گے اور وہ نمک حرام ان میں سے کچھ نہ پا سکیں گے جنہوں نے اپنے رب کے رزق پر پلنے کے بعد اپنے رب ہی کے خلاف سر کشی کی۔
۲۴-تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام، حواشی ۱۲۷و ۱۳۱۔
۲۵-اصل میں لفظ اِثْمٌ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی کوتا ہی کے ہیں۔ اٰثِمَہ اُس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیز چل سکتی ہو مگر جان بوجھ کو سُست چلے۔ اسی سے اس لفظ میں گناہ کا مفہوم پیدا ہوا ہے، یعنی انسان کا اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری میں قدرت و استطاعت کے باوجود، کوتاہی کرنا اور اس کی رضا کو پہنچنے میں جان بوجھ کر قصور دکھانا۔
۲۶-یعنی اپنی حد سے تجاوز کر کے ایسے حدود میں قدم رکھنا جن کے اندر داخل ہونے کا آدمی کو حق نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے وہ لوگ بھی باغی قرار پاتے ہیں جو بندگی کی حد سے نکل کر خدا کے ملک میں خود مختارانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں، اور وہ بھی جو خد ا کی خدائی میں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجاتے ہیں، اور وہ بھی جو بندگانِ خدا کے حقوق پر دست درازی کرتے ہیں۔
