حارث بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ قریش کے ایک انتہائی معزز اور بااثر سردار تھے۔ آپ کا تعلق مکہ کے طاقتور قبیلے بنو مخزوم سے تھا، جو قریش کا ایک نمایاں اور جنگجو قبیلہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ مشہور صحابی و سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے، اور ابتدائی طور پر اسلام کے سخت مخالفین میں سے تھے۔ تاہم، فتح مکہ کے بعد آپ نے اسلام قبول کیا اور ایک عظیم مسلمان مجاہد کے طور پر اپنی زندگی گزاری۔
اسلام سے قبل کا کردار
اسلام سے قبل حارث بن ہشام قریش کے ان سرداروں میں سے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد سمیت کئی معرکوں میں کفار کی قیادت کی۔
جنگ بدر: اس جنگ میں آپ نے قریش کے ایک بڑے دستے کی قیادت کی اور مسلمانوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا۔
جنگ احد: جنگ احد میں بھی آپ نے قریش کی طرف سے اہم کردار ادا کیا۔
فتح مکہ اور قبولِ اسلام
جب 8 ہجری میں فتح مکہ کا موقع آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں عام معافی کا اعلان فرمایا۔ حارث بن ہشام نے ابتدا میں مکہ سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن پھر آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ترغیب پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان سرداروں میں سے تھے جنہوں نے “یوم الفتح” (فتح کے دن) اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، حارث رضی اللہ عنہ نے اپنی سابقہ غلطیوں پر توبہ کی اور پوری مخلصی کے ساتھ دین کی خدمت میں لگ گئے۔
اسلام کے بعد کی زندگی اور جہاد
اسلام قبول کرنے کے بعد حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ وہ ایک مخلص، پرہیزگار اور بہادر مسلمان بنے اور اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان و مال کو قربان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
شام کی فتوحات: آپ نے شام کی فتوحات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات کا آغاز ہوا تو حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ شام کے محاذ پر بھیجے گئے اور رومی سلطنت کے خلاف لڑی جانے والی اہم جنگوں میں شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
جنگ یرموک: آپ نے تاریخ اسلام کی سب سے بڑی جنگوں میں سے ایک جنگ یرموک (636 عیسوی) میں حصہ لیا۔ یہ جنگ رومی سلطنت کے خلاف مسلمانوں کی ایک فیصلہ کن فتح تھی، جس میں حارث بن ہشام نے بہادری سے حصہ لیا۔
فیاضی اور سخاوت: آپ اپنی فیاضی اور سخاوت کے لیے بھی مشہور تھے۔ روایت ہے کہ آپ نے شام میں جہاد کے دوران اپنی تمام دولت اللہ کی راہ میں وقف کر دی تھی۔
وفات
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے شام کی فتوحات کے دوران طاعون عمواس (639 عیسوی) کی وبا میں وفات پائی۔ یہ وبا شام کے علاقے میں پھیلی تھی جس میں ہزاروں صحابہ کرام اور تابعین شہید ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات جہاد اور اسلامی خدمات میں گزارے، اور آپ کو ایک عظیم شہید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کی زندگی ایک مثال ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے ذریعے بہت سے ان لوگوں کو ہدایت دی جو اسلام کے شدید مخالف تھے، اور پھر وہی لوگ اسلام کے سب سے بڑے علمبردار بن کر ابھرے۔ ان کی بہادری، توبہ اور اسلام کے لیے قربانیاں رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
