حَکَم بن عاص بن امیہ رضی اللہ عنہ قریش کے ایک سرکردہ اور بااثر شخص تھے۔ آپ کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور آپ مشہور صحابی و خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے چچا تھے۔ حَکَم بن عاص نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور اس کے بعد اپنی زندگی اسلامی خدمات کے لیے وقف کر دی۔
ابتدائی زندگی اور اسلام سے قبل کا کردار
حَکَم بن عاص کا تعلق قریش کے بنو امیہ قبیلے سے تھا، جو مکہ کے اہم اور طاقتور قبائل میں سے ایک تھا۔ اسلام سے قبل، حَکَم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت مخالفین میں سے تھے اور آپ کو اور مسلمانوں کو اذیت دینے میں پیش پیش رہے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل اتارتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے نتیجے میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا فرمائی، جس کی وجہ سے انہیں ایک بیماری لاحق ہو گئی جس میں ان کا جسم لرزتا رہتا تھا۔
فتح مکہ اور قبولِ اسلام
جب فتح مکہ کا وقت آیا (8 ہجری)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں عام معافی کا اعلان فرمایا۔ اس وقت بہت سے قریشی سرداروں نے، جن میں حَکَم بن عاص بھی شامل تھے، اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، حَکَم نے اپنی پچھلی زندگی کے گناہوں پر توبہ کی اور مخلصانہ طور پر اسلام کی خدمت میں لگ گئے۔
دورِ نبوی اور بعد ازاں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق: اسلام قبول کرنے کے بعد، حَکَم بن عاص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کیں۔ ان کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔
عہدِ عثمانی میں مقام: چونکہ حَکَم بن عاص خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے چچا تھے، اس لیے انہیں عہدِ عثمانی میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹوں کو کچھ حکومتی عہدوں پر فائز کیا، جس پر بعض صحابہ کی طرف سے تنقید بھی ہوئی تھی، لیکن یہ ان کے ذاتی تعلقات اور خاندان کو ملنے والی اہمیت کا ایک حصہ تھا۔
وفات
حَکَم بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 32 ہجری (652-653 عیسوی) میں وفات پائی۔ ان کی زندگی میں اسلام لانے کے بعد ایک واضح تبدیلی آئی، اور انہوں نے اپنے باقی ایام نیکی اور اسلام کی خدمت میں گزارے۔
حَکَم بن عاص کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام ہر اس شخص کے لیے بخشش اور قبولیت کا دروازہ کھول دیتا ہے جو مخلصانہ توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرے۔
