حضرت شاہ رفیع الدین، جن کا پورا نام رفیع الدین عبد الوہاب تھا، برصغیر پاک و ہند کے ایک جلیل القدر محدث، مفسر، فقیہ اور عالم دین تھے۔ آپ کا شمار اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی کی اہم ترین علمی شخصیات میں ہوتا ہے، اور آپ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبزادے اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ آپ کی سب سے بڑی علمی خدمت قرآن مجید کا اردو زبان میں پہلا مکمل تحت اللفظ ترجمہ ہے، جس نے برصغیر میں قرآنی علوم کی ترویج میں انقلاب برپا کر دیا۔
ولادت اور ابتدائی زندگی:
شاہ رفیع الدین کی ولادت 1163 ہجری (1750 عیسوی) میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کا گھرانہ علم و فضل کا گہوارہ تھا، جہاں علوم دینیہ کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کا بہترین ماحول میسر تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی نگرانی میں حاصل کی۔ آپ نے کم عمری میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور حدیث، فقہ، تفسیر، اور دیگر علوم میں گہری بصیرت حاصل کی۔ والد کی وفات کے بعد، آپ نے اپنی ثانوی تعلیم اپنے بڑے بھائی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے حاصل کی۔ آپ حدیث، کلام، اور اصول فقہ کی طرف خصوصی توجہ دیتے تھے۔
علمی خدمات اور تدریسی مقام:
شاہ رفیع الدین نے بیس سال کی عمر میں ہی مفتی اور مدرس کے منصب پر فائز ہو گئے۔ والد کی وفات کے بعد شاہ عبدالعزیز نے والد کی علمی مسند سنبھالی اور جب شاہ عبدالعزیز کبر سنی کی وجہ سے تدریسی فرائض سے سبکدوش ہوئے تو شاہ رفیع الدین نے اس علمی مسند کو سنبھالا اور تعلیم و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپ کی خیالات کی لطافت اور اسلوب کی بلاغت کی بہت تعریف کی جاتی تھی۔
آپ کی سب سے بڑی اور یادگار علمی خدمت قرآن مجید کا اردو زبان میں پہلا تحت اللفظ ترجمہ ہے، جسے آپ نے 1776ء (1200 ہجری) کے آخر میں مکمل کیا۔ یہ ترجمہ برصغیر میں قرآنی علوم کی تفہیم اور اشاعت میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس سے قبل اردو میں قرآن کا کوئی مکمل اور تحت اللفظ ترجمہ موجود نہیں تھا۔ اس ترجمہ نے عام مسلمانوں کے لیے قرآن کو سمجھنے کا دروازہ کھول دیا اور بعد میں آنے والے اردو تراجم کے لیے ایک بنیاد فراہم کی۔ اس ترجمہ میں آپ نے متن کی بڑی پابندی کی ہے۔ اس ترجمہ کی پہلی اشاعت 1838-1839ء میں کلکتہ میں ہوئی اور دوسری 1849-1850ء میں۔
آپ نے ایک تفسیر بھی لکھی جو تفسیر رفیعی کے نام سے مشہور ہوئی۔
دیگر تصانیف:
شاہ رفیع الدین کی تصانیف کی تعداد تقریباً بیس بتائی جاتی ہے، جن میں سے کچھ مشہور کتب درج ذیل ہیں:
راہ نجات: یہ ایک اہم تصنیف ہے۔
دفع الباطل: یہ بھی آپ کی قابل ذکر تصنیف ہے۔
مقدمۃ العلم: علم کی اہمیت اور اس کے حصول پر ایک رسالہ۔
رسالہ عروض: علم عروض پر ایک تصنیف۔
رسالہ شق القمر: معجزہ شق القمر پر بحث۔
تفسیر آیت نور: (فارسی میں، جس کا بعد میں اردو ترجمہ بھی ہوا)
آپ کی کتب میں ایسے رموزِ خفیہ شامل ہیں جو گہری علمی بصیرت کے متقاضی ہیں، اور آپ نے کلمات یسیرہ میں مسائل کثیرہ کو جمع کیا۔
وفات شاہ رفیع الدین کا انتقال 3 شوال 1233 ہجری (9 اگست 1818 عیسوی) کو طاعون کے مرض میں ہوا۔ آپ نے تقریباً 67-68 سال کی عمر پائی۔ آپ کا انتقال برصغیر کے علمی حلقوں کے لیے ایک عظیم خسارہ تھا، لیکن آپ کا علمی ورثہ، خاص طور پر قرآن مجید کا اردو ترجمہ، آج بھی زندہ ہے اور امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
