شخصیات

شاہ عبدالقادر دہلوی (رحمتہ اللہ علیہ)

شاہ عبدالقادر دہلوی (رحمتہ اللہ علیہ) برصغیر پاک و ہند کی ایک نہایت ہی نمایاں علمی اور روحانی شخصیت تھے۔ آپ شاہ ولی اللہ دہلوی (رحمتہ اللہ علیہ) کے تیسرے صاحبزادے تھے اور 1166 ہجری (بمطابق 1753 عیسوی) میں دہلی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم:

آپ کا بچپن اپنے والد کی زیر نگرانی گزرا، لیکن جب آپ نو برس کے تھے تو شاہ ولی اللہ دہلوی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد، آپ کی تعلیم و تربیت اور تمام علوم کی تکمیل آپ کے بڑے بھائی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رحمتہ اللہ علیہ) کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ نے علوم کی تکمیل شاہ محمد عاشق اور دیگر علماء سے بھی کی۔ طریقت کی تعلیم آپ نے شاہ عبدالعدل دہلوی سے حاصل کی۔

علمی خدمات اور “موضح القرآن”:

شاہ عبدالقادر دہلوی علومِ الہیہ میں ممتاز علماء میں سے تھے۔ آپ نے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ دہلی کی اکبر آبادی مسجد کے ایک حجرے میں گزارتے تھے، جہاں آپ عبادت، ذکر الہی اور تعلیم و تدریس میں مشغول رہتے۔

آپ کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ قرآن مجید کا اردو ترجمہ اور اس پر تحشیہ ہے، جو “موضح القرآن” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ اردو زبان میں قرآن مجید کا پہلا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ تھا، جس نے برصغیر میں قرآن فہمی کے نئے در کھولے۔ اس ترجمے نے بعد میں آنے والے مترجمین کے لیے ایک بنیاد فراہم کی اور آج بھی اس کی اہمیت مسلم ہے۔

شاگرد اور اثرات:

شاہ عبدالقادر دہلوی کے شاگردوں میں بڑے نامی گرامی علماء شامل تھے، جن میں مولانا رشید الدین خان، مولانا رفیع الدین مراد آبادی، مولانا فضل حق خیر آبادی، اور شاہ اسماعیل دہلوی (جو آپ کے بھتیجے بھی تھے) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ شاہ اسماعیل دہلوی نے اپنے چچا کے زیر تربیت رہ کر دعوت و اصلاح کی تحریک برپا کی اور جہاد آزادی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

شاہ عبدالقادر دہلوی کو نہ صرف مذہبی حلقوں میں بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی بہت عزت حاصل تھی۔ بڑے بڑے رئیس اور لال قلعہ کے شہزادے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ خندہ پیشانی سے ملتے تھے، لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے انہیں بات کرنے کی ہمت کم ہی ہوتی تھی۔ آپ کی پیش گوئیاں اکثر پوری ہوتیں، تاہم آپ عام طور پر کسی شخص کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کرتے تھے۔

وفات:

شاہ عبدالقادر دہلوی نے 63 سال کی عمر میں 19 رجب 1230 ہجری (بمطابق 1814 عیسوی) کو دہلی میں وفات پائی۔ آپ اپنے جد امجد شاہ عبدالرحیم کے پاس دفن ہوئے۔ آپ کی یہ ایک ہی تصنیف “موضح القرآن” نے آپ کو ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید کر دیا۔

Leave a Comment