شخصیات
اللہ
ابو جعفر محمد بن حبیب
امیہ بن خلف
ابنِ حزْم
ابن ابی جریر
ابن ابی حاتم
ابن ابی شَیْبَہ
ابن ماجہ
ابو الطفیل
امام شافعی
انطیخش
بنو ثَعْلَبَہ
بنی اسرائیل
بنی النَّضیر
بنی مرّہ
جابر بن زید
جو ذُسمو ی یا ذوسماوی (یعنی رب السماء)
حاکم
حتّیوں
حسن بصری
حضرت اَنَس ؓ
حضرت ابراہیمؑ
حضرت ابن مسعودؓ
حضرت ابو الدرداءؓ
حضرت ابو سعید خُدری
حضرت جابر بن عبداللہ
حضرت عیسیٰ علیہم السلام
خالد بن سِنان بن غَیث
سفینۃ مولیٰ رسول اللہ
شعبی
ضحاک
عُمرو بن جُندُب الجُہنِی
عتبہ
عثمان بن الحُوَیزِث
علی بن الحسین (زین العابدین)
قَیْنقُاع
کتابی عورت
کوہ کرمل (Carmel)
لَبید بن اَعصم
لحنم اور کندہ
محمد بن کعب القرظی
محمد صلی اللہ علیہ و سلم
نَخَعِی
وادی القُریٰ
وہ نبی (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم)
اَخزیاہ
اَزْد
اَزد
اَشجع
اَعْشیٰ
اَنْمار
اَوزاعی
اَوس و خز ر ج ک
اُبَی ابنِ کعب
اُسُد الغابہ
اُمَیَّہ بن ابی الصَّلْت
اُناث
اُوریاہ حِتّی (Orian the Hittite)
اِلِیشَع (Elisha)
ا بی زرعہ
ابراہیم بن یزید
ابن ابی حاتم
ابن البَزَّاز الکَرْوَرِی
ابن السائب
ابن المُنذِر
ابن انی نُجَیح
ابن تمییہؒ
ابن جَوزی
ابن عباسؒ
ابن عبد یالیل
ابن عبدلبَر
ابن عساکر
ابن کثیر
ابن مَرْدُوْیہَ
ابن ہشام
ابو العالیہ
ابو بَرزة الاسلمی
ابو بکر جَصّاص
ابو ثَور
ابو سُفْیان
ابو سعید خُدریؓ
ابو عامر
ابو عبیدہ بن الجراحؓ
ابو موسیٰ اشعری
ابو ھالہ تمیمی
ابوجہل
ابوطالب
ابی حجیفہ
ابیڈینوس (Abydenus)
اپوفیس (Apophis)
احبار = فقہاء
اخسویرس یعنی خشیار شاہ (Xerxes)
اخی اب
اسحاق بن راہویہ
اسفند یار
اسمٰعیل علیہما السلام
اسود بن المطلب
اصحاب الاَیکہ
الجَوف
الروم
الشعراء
العنکبوت
العیزر
القصص
اللہ
المُتَلَمِسّ بن اُمَیّۃ الکنانی
النمل
امام ابو یوسف
امام احمد
امام بنِ جریر طَبَرِی
امام جعفر صادق
امام خَطَّابی
امام زُفَر
امام مالک
امام محمد
امراؤ القیس
اموریوں
امیرین ابی الصلْٰت
انٹیوکس چہارم (جس کا لقب ایپی فانیس یعنی مظہر خدا)
انس بن مالک
انسائیکلو پیڈیا آف اسلام
انطاکیہ
انگریز مستشرق ڈاٹی (Daughty)
ایل
آسا
آشور (اسیریا)
آل عبد المطلب
آل قُصَیّ
بَرنَاباس
بحیرہ
بخت نصر سن ۵۹۸ قبل مسیح
بدر
برابّا
بطلیموس ثانی (۲۸۵–۲۴۶ قبل مسیح)
بعل
بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں…
بلالؓ
بن مُلیح
بنو مُحَارِب
بنی ْ قَیْن بن جَسْر
بنی اَسَدْ
بنی اسد
بنی النَّضِیر
بنی سُلیم
بنی عامر
بنی عبد شمس
بنی عبد مَناف
بنی عبدالمطلب
بنی غَطَفان
بنی غمّون
بنی قُرَیظہ
بنی کعب بن لُؤَیّ
بنی ہاشم
بیہقی
پروکیوریٹر فلورس
پومپی
تابعی محمد بن کعب القرظی
تابعین
ترمذی
ٹیٹئس
جُدّام۔ لَحْم
جابر بن عبداللہ
جب پونتس پیلاطس
جلال الدین سیوطی
جیوش انسائیکلو پیڈیا، مضمون ’’موسیٰ‘‘ اور (The Talmud Selection s.p. ۱۲۴-۲۳ )۔
چروا ہے بادشاہوں ( HIKSOS Kings ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ عربی النسل تھے اور فلسطین و شام سے مصر جا کر ۲ ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں سلطنت مصر پر قابض ہو گئے۔ عرب مؤرخین اور مفسرین قرآن نے ان کے لیے “عمالیق” کا نام استعمال کیا ہے جو مصریات کی موجودہ تحقیقات سے ٹھیک مطابقت رکھتا ہے۔ مصر میں یہ لوگ اجنبی حملہ آور کی حیثیت رکھتے تھے اور ملک کی خانگی نزاعات کے سبب انہیں وہاں اپنی بادشاہی قائم کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
حَجیّ نبی
حَمْرأالاسد
حَوی
حُیّی بن اخْطَب
حارِث بن ہِشام
حبشی غلام
حبیب بن عمرہ
حجاج بن یوسف
حرمتم یا حریمت
حسن
حسن بن قَحطُبہ
حسین رضی اللہ عنہم
حضرت اَنَس
حضرت اُمّ حبیبہؓ
حضرت ابو سَلَمہ
حضرت ابو سعید خُدری
حضرت ابو ہریرہ
حضرت ابوالدّرواء
حضرت اسحاق کی پیدائش
حضرت الیَسع علیہما السلام
حضرت الیاس
حضرت انس ؓ
حضرت انس رضی اللہ عنہ
حضرت ایوبؑ
حضرت جاب بن عبداللہ
حضرت جابر بن عبد اللہ
حضرت حَسَن بصری
حضرت حَفْصہ
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ
حضرت حفصہؓ
حضرت حمزہؓ
حضرت داؤد
حضرت داؤد علیہ السلام (سن ۱۰۰۴ تا ۹۶۵ ق م)
حضرت ذولکفل
حضرت زہیر بن عمرو
حضرت زینبؓ
حضرت سعد بن ابی وقاص
حضرت سعد بن رَبیع ؓ کی بیوی
حضرت سعد بن عبادہ
حضرت سلیمان
حضرت سہَل بن سَعد ساعِدی
حضرت صالح کی اونٹنی
حضرت عَدِی بن حاتم
حضرت عُبَیدۃ السّلمانی
حضرت عُزیر (عزرا)
حضرت عائشہؓ
حضرت عائشہ
حضرت عبداللہ بن زبیر
حضرت عبداللہ بن سلام
حضرت عبیدہ بن حارثؓ مُطَّلبی
حضرت عثمانؓ
حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ
حضرت عمرؓ
حضرت قبیصہ بن مخارق
حضرت لوط
حضرت مُعاذ بن جَبَل
حضرت مُغیفہ بن شُعْبہ
حضرت ماریہ قبطیہؓ
حضرت میمونہؓ
حضرت ہارون سردار کاہن (Chief Priest)
حضرت ہارون علیہ السّلام
حضرت واثِلہ بن اَسْقَع
حضرت یُوشع بن نون
حضرت یحییٰ
حضرت یرمیاہ
حضرت یسعیاہ
حضرت یونس علیہ السلام
حکیم بن حِزام
حمیریوں
خَبّاب
خَثْعَمْ اور بَجیْلَہ۔
خَربیہ کے جام
خَوْلَۃ بنت حُکَیْم السُّلَمِیَّۃ
خَوّات بن جُبیر
خُز ا عہ
خالد بن ولیدؓ
خالدالربعی
خسرو پرویز
دُدمتہ الجَنْدَل
داریوس (دارا) اوّل
دیر نبورگ(Derenbours)
دیوتاؤں
ذابِ بعدان (سورج دیوی)
ذات الرِّقاع
ذکْوان
ذولْخَلَصَہ
رَجیع(جدّہ اور رابِغ کے درمیان
رَعْمَسِیْس
رَیدان
رُقیَّہ
رِعْل
رازی
ربیع بن انس
رستم
رورنڈ جارج ولیم ناکس
زَلیخا (Zelicha)
زُہَیربن ابی سَلْمیٰ
زُہْریؓ
زفورا
زکریاہ نبی
زید بن حارِثہ رضی اللہ عنہ
زید بن حارثہؓ
زید بن عُمروبن نُُفَیل
زید بن محمدؐ
زین العابدین
زینب
سَرِیَّۂابو سَلَمہ
سَعد
سُدِّی
سُعدیٰ بنت ثَعْلَبَہ
سُفیان ثَوری
سُہَیلی
سُوَید بن صامت
سُوْید بن عُمرو المُصْطَلِقی
سبا کی قوم
سعدؓ بن مُعاذ
سعد بن مُعاذ
سعد بن معاذ رئیس مدینہ
سعید بن ابی الحسن
سعید بن المُسَیِّب
سعید بن جُبَیر
سفیان ثَوری
سلطنت
سلوتی خاندان (Saleucid dynasty)کے ۱۳ بادشاہ انتیوکس (Antiochus)کے نام سے گزرے ہیں
سلیمان بن عبد اللہ البحرانی
سہل بن ابی حَثْمَہ
سورۂ مریم
سینٹ پال
شَعبِی
شَکَل بن حُمید
شام
شاہ ولی اللہ صاحب
شائیلاک
شہزادی ایؔزِبل
شیبہ
صُہَیْب
صُہَیب ؓ
صرواح
صفورہ
طَرَفہ
طَعْمہ یا بشیر بن اُبَیرِق
طالوت
طالوت (سن ۱۰۲۰ تا ۱۰۰۴ ق م)
طاہر
طیب
ظفار
عَشْتَر (زُہرہ)
عَضَل
عَلّاف بن شہاب التَّمیمی
عُتبہ بن ربیعہ (ابو سفیان کے خسر )
عُروہ بن زبیر
عُصَیَّہ
عُمرو بن لُحیّ
عِستارات
عِکرمہ
عِکرمہ بن خالد
عاص بن وائل
عامر الشَّعبِی
عاموس نبی (سن ۷۸۷ تا ۷۴۷ قبل مسیح)
عباس بن مرداس سُلَمی
عبد الرحمٰن بن مسلم
عبدالرحمٰن بن جبیر
عبدالرزاق
عبداللہ بن اُبَی
عبداللہ بن اُبیّ
عبداللہ بن رواعہ
عبداللہ بن مبارک
عتبہ بن ربیعہ
عثمان الْبَتِّی
عثمان بن انی العاص
عدّ اس (حُوَیطِب بن عبد العزّیٰ کا آزاد کر دہ غلام)
عستارات
عطاء بن ابی رباح
عطیۃ الغوفی
عکْرِمَہ
عکْرمہ
علامہ ابن نُجیم(متوفی ۹۷۰ھ)
علامہ آلوسی
علامہ آلوسی (متوفّٰی ۱۲۷۰ھ)
علامہ بدر الدین عینی
علامہ حافظ الدین النَّسَفی(متوفی ۷۱۰ھ)
علامہ زَمَخْشَری (۴۶۷ھ۔
علامہ شَو کافّٰی (متوفّٰی ۱۲۵۵ھ)
علامہ شہر ستانی (متوفی ۵۴۸ھ )
عمّار
عمر ان بن حصین
عمر بن عبدالعزیز رحمہم اللہ
عمر و بن شعیب
عمرو بن حیّی
عمرو بن دینار
عمرو بن شعیب
عمرو بن عُبید
عن معاذ بن انس الجھنی
عوف بنؓ مالک اشجعی
عوف بن مالک الاشجعی
عیسیٰؑ ابنِ مریمؑ
غَطفان
غسان۔
غسانیوں
فَزارہ
فِرِ زّیوں
فِرِزی
فِلستی
فاطمہ
فاطمہؓ
فاطمہ بنت عُتبہ بن ربیعہ
فرشتہ
فوطیفار
قَتَادہ
قُسّ بن ساعِد ۃالایاوی
قِنَّسرین
قارَہ
قاسم
قاضی ابوبکر ابن العربی
قاضی ابوبکر ابن العربی
قاضی عیاض(متوفی ۵۴۴ھ)
قبیلۂ کَلْب
قبیلۂ ھُذَیل
قتَادہ
قتاویٰ علمگیری
قرطاجنہ (Carthage
قطبہ بن مالک
قیصر حَسٹِینین
قیصر ہِرَ قْل
کَعب اَحْبار
کَلْبی
کالِب
کالسیڈن
کامل
کنانہ بن عبد عمرو
کنعانیوں
کوہ سَلْع
لَبِید
لَیث بن سعد
لقمان بن عاد
مَذْحِج۔
مَعقِل بن یَسار
مَکُحول
مُرُوج الذَّہَب
مُرَّالظَّہران
مُرَّہ
مُسَیلمۂ کذّاب
مُصعَبؓ بن عُمَیر
مُقاتِل
مُقاتِل بن حَیّان
مُقاتِل بن حَیّان
مارِب
ماریس (Mauric) ک
مجاہد
مجاہد
مجاہد
محمد بن سَیرین ؒ
محمد بن علی بن حسین(محمد الباقر)
محمد بن کعب قر
محی السُّنَّہ بَغَوی (متوفی۵۱۰ھ
مدینہ طیّبہ
مسروق
مسلم
مسیحی (CHRISTIAN) پہلی مرتبہ ۴۳ عیسوی یا ۴۴ عیسوی میں انطاکیہ کے مشرک باشندوں نے رکھا تھا
معاذ بن جبل کی چچا زاد بہن اسماء بنت یزید
مکحول
ملّا علی قاری
ملّا علی قاری(متوفی ۱۰۱۶ھ)
ممفس (منف)…
موسیٰ (علیہ السلام )
موصل
مولانا سّید سلیمان ندوی
مولانا شبیر احمد عثمانی
نَاتَن
نَبطیوں
نَضَر بن حارِث
نَضْر بن حارث
نَعیم بن مسعُود
نوحؑ
نیسا بوری
نینویٰ
ہُبَل
ہُدہُد
ہُذَیل
ہا مان
ہاجرہ
ہرقل (Heraclius)
ہشام بن محمد بن السّائب کلبی
ہگّا دا
ہمدانیوں
ہند
ہند بن ابو ہالہ
ہوبس
ہوسیع نبی (سن ۷۴۷ تا ۷۳۵ قبل مسیح)
ہیڈ ریان
ہیرود…
ہیلر(B. Heller)
واحدی
وادیِ فاطمہ
وادی القُریٰ
ورقہ بن نَو فَل
ولید بن مغیرہ
وہب بن مُنَبِہّ
یَتْر و
یَسَار (علاء بن الحضرمی کا آزاد کردہ غلام)…
یُوشع
یاہو بن یہوسفط بن مسّی
یتھر و
یریم
یشوع
یہو سفط
یہورام(Jehoram)ن
یوسف بن مہران
یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church )
(۵۹)۔سورہ الحشر
(۶۸)سورة القلم
(۶۹)سورة الحاقۃ
(۷۰)سورة المعارج
(۷۱)سورة نوح
(Skyscraper) قصر غُمدان
۔ یوسف
’’مہذّب‘‘ قوم نے…
’’ننار‘‘ کا بُت اُر میں…
’موسیٰ یہ عبرانی زبان کا نہیں…
۱۳۔ الرعد
۱۴۔ ابراہیم
۱۵۔ الحجر
۱۶۔ النحل
۱۷۔ الاسرا/بنی اسرائیل
۲۰۔ سورۂ طٰہٰ
۲۱۔ سورۂ الْانبیاء
۲۲۔ سورۂ الحج
۲۳۔ سورۂ الْمؤمنون
۲۴۔ سورۂ النور
۳۔ آل عمران
۳۶۶ ء میں پوپ لبیریس (Liberius)
۵۔ المائدہ
۷۔ الاعراف
۸۔ الانفال
Arabia the isles, Harold ingramsLondon, 1946
Arethas
The Empty Quarter, Phiby, London 1933
The unveiling of Arabia R.H.Kiran,London 1937.
اَبْرَہہ
اَبرامِس Abrames
اَرْیاط
اَردو – یعنی غلام۔
اَریا ط
اَسف اور نائلہ جن کے مجسمے صفا اور مروہ پر رکھے ہوئے تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دونوں در اصل ایک عورت اور ایک مرد تھے جنہوں نے خانہ کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تھا اور خدا نے ان کو پتھر بنا دیا۔
اَسلم
اَشْجع
اَشْعَریین۔
اَلْمقہ (چاند دیوتا)
اَمَّوری کنعانی
اَوْس بن صامِت انصاری
اَوزاعی
اَوس
اُر کا شاہی خاندان جو حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ میں حکمران تھا، اس کے بانیٔ اوّل کا نام اُرنَمُوّ تھا جس نے ۲۳۰۰ برس قبل مسیح میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی۔ اس کے حُدُودِ مملکت مشرق میں سوسہ سے لے کر مغرب میں لُبنان تک پھیلے ہوئے تھے۔ اُسی سے اس خاندان کو ’’نَمُوّ‘‘ کا نام ملا جو عربی میں جا کر نمرود ہو گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی ہجرت کے بعد اس خاندان اور اس قوم پر مسلسل تباہی نازل ہونی شروع ہوئی۔ پہلے عیلامیوں نے اُر کو تباہ کیا اور نمرُود کے ننار کے بُت سمیت پکڑ لے گئے۔ پھر لرسہ میں ایک عیلامی حکومت قائم ہوئی جس کے ماتحت اُر کا علاقہ غلام کی حیثیت سے رہا۔ آخر کار ایک عربی النسل خاندان کے ماتحت بابِل نے زور پکڑا اور لرسہ اور اُر دونوں اس کے زیرِ حکم ہو گئے۔ ان تباہیوں نے ننار کے ساتھ اُر کے لوگوں کا عقیدہ متزلزل کر دیا کیونکہ وہ ان کی حفاظت نہ کر سکا۔
اُرکا ربّ البلد’’نَنّار‘‘(چاند دیوتا) تھا اور اسی مناسبت سے بعد کے لوگوں نے اس شہر کا نام’’قمرینہ‘‘ بھی لکھا ہے۔ دُوسرا بڑا شہر لَرسہ تھا جو بعد میں اُر کے بجائے مرکزِ سلطنت ہوا۔ اُس کا ربّ البلد ’’شماش‘‘ (سُورج دیوتا) تھا۔ ان بڑے خداؤں کے ماتحت بہت سے چھوٹے خدا بھی تھے جو زیادہ تر آسمانی تاروں اور سیاروں میں سے اور کم تر زمین سے منتخب کیے گئے تھے اور لوگ اپنی مختلف فروعی ضروریات ان سے متعلق سمجھتے تھے۔ ان آسمانی اور زمینی دیوتاؤں اور دیویوں کی شبیہیں بُتوں کی شکل میں بنالی گئی تھیں اور تمام مراسمِ عبادت انہی کے آگے بجا لائے جاتے تھے۔
اُسقُف مار شمعون(Simeon )
اُمَیْمہَ بنت عبدالمطلب
اُمَیَّہ بن خالد
اُمّ المومنین حضرت اُم سلَمہؓ
ا َسَد
ا بی محمد الھذلی
ا عباسؓ
ابُو مسعود بدری
ابان بن صالح
ابراہام Abraham
ابراہیم النخفی،
ابن ابی تیبہ
ابن ابی شیبہ
ابن ابی لیلیٰ
ابن الاَصْداءِ الہُذَلِی
ابن القاسم
ابن ام عبد
ابن ام مکتوم
ابن بطوطہ
ابن جریر
ابن حَزم
ابن حِبّان
ابن زید
ابن ضریر
ابن عربی
ابن عقیل
ابن لجوزی
ابن مردوؤیہ
ابن ندیم کی الفہرست
ابو ُحمید سا عدی ؓ
ابو اسرائیل
ابو السعود عمادی
ابو الصباء
ابو الضُّحیٰ
ابو العباس احمد الدینوری
ابو الہَیشَم بن الَّیہان انصاری
ابو الہیاج
ابو بصیر قریش
ابو بکر الاَنْباری
ابو ثور
ابو جندل
ابو حَیّان / البحر المحیط
ابو حذیفہ
ابو داوٗد وطَیا لِسی
ابو داؤد طیالسی
ابو سعید الخراز
ابو سعید خُدری
ابو سلیمان الدّرانی
ابو صالح
ابو عبید نے کتاب الاموال
ابو عبیدہ نجوی
ابو عثمان الجہدی
ابو عذہ شاعر
ابو عزیز
ابو عسیب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام سے نقل کیا ہے۔
ابو عوانہ
ابو قَیس بن اَسْلَت
ابو قیس صَرمہ بن ابی انَس
ابو لہب
ابو لہب بن عبد المطّلِب
ابو لہب کی بیوی امِّ جمیل (ابو سفیان کی بہن)
ابو لہب کی بیوی امّ جمیل نے، جو حضور ؐ کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضور ؐ کے مکان سے متصل تھا
ابو مسلم اصفہانی
ابو مسلم اصفہانی
ابو منصُور احمد بن ابو طالب طَبْرَسِی
ابو موسیٰ اشعری
ابو نعیم اصفہانی
ابو ہریرہ ؓ
ابو وائل شَقِیق بن سَلَمَہ
ابواُمامہ ؓباہلی
ابواسحاق
ابوالحسین النوری
ابوبُرَیدہؓ
ابوبکرہ
ابورِ غال
ابوصالحؒ
ابولولید
ابی اُمامۃ الباھلی
ابی بِشْر
ابی بکر محمد بن جعفر الخزائطی
اتھا ناسیوس
اتھانا سیوس(Athanasius)
اخسو یرس (شاہ ایران) کے درباری امیر ’’ہامان‘‘
ارتخششتا(ارٹاکسرسز یا اردشیر)
ارم بن سام بن نوحؑ
اس کا ایک بیٹا ارخلاؤس سامریہ یہودیہ اور شمالی اُدومیہ کا فرمانروا ہوا، مگر سن ۶ عیسوی میں قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور ۴۱ عیسوی تک یہی انتظام قائم رہا۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اُٹھے اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔
اس کا تیسرا بیٹا فلپ، کوہ حرمون سے دریائے یر موک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میں غرق تھا۔ اس کے علاقے میں کسی کلمہ خیر کے پننپے کی اتنی گنجائش بھی نہ تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی۔
اس کے مرید سینٹ یوسیبیوس نے پِیْر سے بھی بڑھ کر ریاضت کی۔ وہ ۱۵۰ پونڈ کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا اور ۳ سال تک ایک خشک کنویں میں پڑا رہا۔
اسپ تازی شدہ مجروح بزیر پالاں
اسحٰق بن راہویہ
اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ
اسکندریہ کاسینٹ مکاریوس ہر وقت اپنے جسم پر ۸۰ پونڈ کا بوجھ اٹھائے رکھتا تھا۔ ۶ مہینے تک وہ ایک دلدل میں سوتا رہا اور زہریلی مکھیاں اس کے برہنہ جسم کو کاٹتی رہیں ۔
اسود بن یزید
اشراقیوں
اشعث بن قیس کندی
اصحاب الایکہ
اصحاب الفیل
افلاطون
البقرہ
التوبۃ
الخطیب(فی التاریخ)
الزَّ جّاج
السُّمَیْفِع اَشْوَع (جسے یونانی مورخین Esymphaeus)
العَبُسی
الفاتحہ
الفرقان
القیامہ (Holy Sepulchre)
المغنی لا بن قدامہ
الموفَّق الملکی
النساء
الواحدی نے اسباب النزُول میں
الیشبع (Elizabeth)
امّ کلثوم
ام حبیبیہ
ام رومان (حضرت عائشہ کی والدہ)
ام شریک
ام عطیہ انصاریہ
ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط
ام ہشام بن حارثہ
امام طَحاوِی(۲۳۹ھ۔ ۳۲۱ھ)
امام اَوزاعی
امام ابو حنیفہ
امام انو حنیفہ
امام بَیْہقَیِ
امام بدر الدین زَرْکَشِی کی کتاب البُرہان فی علوم القرآن
امام خطابی
امام رازی
امام رازیؐ
امام زہری
امام سُیُوطیِ نے اِتقان میں
امام سر خسی
امام طحاویؒ
امام غَزّالی (۴۵۰ھ۔ ۵۰۵ھ)
امام محم
امام محمد باقر
امام محمد بن کعب قُرظی
امام نَسَفِی
امام نَوَوی
امام نووی نے المنہاج
امیہ بن خَلَف
امیہ بنت رقیقہ
ان میں سے پہلے طبقہ ، یعنی عَمیلو کو خاص امتیازات حاصل تھے۔ ان کے فوجداری اور دیوانی حقوق دُوسروں سے مختلف تھے ، اور ان کی جان و مال کی قیمت دُوسروں سے بڑھ کرتھی۔
انٹیوکس ثالث نے سن ۱۹۸ قم
انجیل برناباس
اہب ایوا گریَس (Evagrius) سالہا سال سے صحرا میں ریاضتیں کر رہا تھا۔ ایک روز یکایک اس کے پاس اس کی ماں اور اس کے باپ کے خطوط پہنچے جو برسوں سے اس کی جدائی میں تڑپ رہے تھے ۔ اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں ان خطوں کو پڑھ کر اس کے دل میں انسانی محبت کے جذبات نہ جاگ اٹھیں ۔ اس نے ان کو کھولے بغیر فوراً آگ میں جھونک دیا۔
اہلِ الظاہر
ایرین(Arian) فرقے
ایلیسبو عان (Elesboan)
آدم
آئسس (Isis)
بِئر مَعُونہ
بخاری
بخت نصر
بدیل بن ورقا
براء بن عازِب
برہمنوں
بریدۃ الخزاعی
بطیق
بکیر بن الاشج
بلال
بن ہُمام
بنو حنِیفیہ
بنو سُلَیم
بنو سلمہ اور بنو حارثہ
بنی بن یمین
بنی تمیم
بنی زَعُوراء
بنی عقیل
بنی غَطَفان
بنی لاوِی
بھائی عبداللہ بن جَحْش رضی اللہ عنہ
بھائی ولید بن عقبہ
بو الدحداح
بیاں
بیراسُس (Berasus)
بیہقی
پرو کو پیوس
پوپ ڈیمیسس (Damasius)
پوپ سائر یکیس(Siricius)
پوپ سکسٹس (Sixtus)
پوپ گلاسیس اول (Gelasius)
پولس(Pulus)
پیڑا
تُبان اسعد ابو کرب
تاتاری منگولی
تارح
تعیّن کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ بعد کے ادوار میں حضرت ابراہیمؑ کی تعلیمات کا اثر اس ملک کے لوگوں نے کہا ں تک قبول کیا۔ لیکن سن ۱۹۱۰ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ حمورائی (بائیبل کے اَمُرافیل) نے جو قوانین مرتب کیے تھے وہ شہادت دیتے ہیں کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کی تدوین میں مشکوٰۃِ نبوّت سے حاصل کی ہوئی روشنی کسی حد تک ضرور کار فرما تھی۔ ان قوانین کا مفصل کتبہ سن ۱۹۰۲ بعد مسیح میں ایک فرانسیسی مفتش آثارِ قدیمہ کو ملا اور اس کا انگریزی ترجمہ C.H.W. John نے سن ۱۹۰۳ بعد مسیح میں( The Oldest Code of Law ) کے نام سے شائع کیا۔ اس ضابطۂ قوانین کے بہت سے اُصُول اور فروع موسوی شریعت سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اُر کے کتبات میں تقریباً ۵ ہزار خداؤں کے نام ملتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں کے الگ الگ خدا تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص محافظ خدا ہوتا تھا جو ربُّ البلد، مہادیو، یا رئیس الآلہہ سمجھا جاتا تھا اور اس کا احترام دُوسرے معبُودوں سے زیادہ ہوتا تھا۔
تغابن
تفہیم القرآن
