شخصیات

پوپ ڈیمیسس اول

پوپ ڈیمیسس اول (Pope Damasus I) رومی کیتھولک کلیسا کی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ وہ اکتوبر 366 عیسوی سے لے کر اپنی وفات 384 عیسوی تک روم کے بشپ (پوپ) رہے۔ ان کا دور ایسے وقت میں تھا جب رومی سلطنت میں عیسائیت کو قانونی حیثیت مل چکی تھی اور یہ ایک اہم مذہب کے طور پر ابھر رہی تھی۔ ڈیمیسس اول نے کلیسا کو مستحکم کرنے اور اس کی روحانی اور انتظامی اہمیت کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ابتدائی زندگی اور پوپ کا انتخاب

ڈیمیسس اول تقریباً 305 عیسوی میں روم یا لوسیٹانیہ (موجودہ پرتگال) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، اینٹونیئس، روم میں سینٹ لارنس چرچ میں پادری تھے۔ ڈیمیسس نے اپنی مذہبی زندگی کا آغاز ایک ڈیکن کے طور پر کیا اور بعد میں پادری بنے۔ 366 عیسوی میں پوپ لیبریئس (Liberius) کی وفات کے بعد، ڈیمیسس کو روم کا بشپ منتخب کیا گیا۔ تاہم، ان کے انتخاب کو کچھ گروہوں نے چیلنج کیا جنہوں نے ایک متبادل امیدوار، ارسینوس (Ursinus)، کی حمایت کی۔ اس مخالفت کی وجہ سے روم میں کافی تشدد اور افراتفری پھیلی، لیکن بالآخر ڈیمیسس کو سول حکام کی حمایت حاصل ہوئی اور وہ پوپ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

اہم کامیابیاں اور کام

پوپ ڈیمیسس اول نے اپنے دور میں کئی اہم کام کیے جو کیتھولک کلیسا کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں:

روم کی برتری کا قیام: ڈیمیسس نے روم کے بشپ کی اہمیت اور برتری (papal primacy) کو مضبوطی سے قائم کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روم کا کلیسا سینٹ پیٹر رسول کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا، اور اسی لیے اسے “اپوسٹولک سی (apostolic see)” یعنی رسولی مرکز کہا جائے۔ 382 عیسوی میں انہوں نے روم میں ایک سنوڈ (مذہبی مجلس) بلائی جس میں روم کی برتری کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا۔

آریانیت (Arianism) کی مذمت: ان کے دور کا ایک بڑا مسئلہ آریانیت کی بدعت تھی، جو مسیح کی الوہیت (divinity) پر سوال اٹھاتی تھی۔ پوپ ڈیمیسس نے آریانیت اور دیگر بدعتوں (جیسے اپولینیرین ازم اور میسیڈونین ازم) کی مذمت کے لیے مختلف سنوڈز منعقد کیں اور کلیسا کے عقائد کا دفاع کیا۔ انہوں نے آریانیت کے خلاف جدوجہد میں سینٹ ایتھناسیئس، سینٹ امبروز، اور سینٹ جیروم جیسے علمائے کرام کی حمایت کی۔

ولگیٹ بائبل (Vulgate Bible) کی تیاری: ڈیمیسس اول کا سب سے بڑا کارنامہ سینٹ جیروم (Saint Jerome) کو لاطینی بائبل کا نیا ترجمہ تیار کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ اس وقت بائبل کے مختلف لاطینی تراجم موجود تھے جن میں کافی اختلافات تھے۔ پوپ ڈیمیسس نے سینٹ جیروم کو یونانی اور عبرانی متن کی بنیاد پر ایک نیا اور معیاری لاطینی ترجمہ تیار کرنے کا حکم دیا، جو بعد میں ولگیٹ (Vulgate) کے نام سے مشہور ہوا اور صدیوں تک کیتھولک کلیسا کی معیاری بائبل بن گیا۔

لاطینی زبان کا فروغ: ان کے دور میں لاطینی زبان نے روم کے کلیسا میں سرکاری اور عبادتی زبان کے طور پر یونانی کی جگہ لی۔

شہداء کا احترام اور مقبروں کی بحالی: ڈیمیسس اول نے مسیحی شہداء کی تکریم کو بہت فروغ دیا۔ انہوں نے روم کے کیٹاکومبس (زیر زمین قبرستان) میں شہداء کی قبروں کی تلاش کی، انہیں بحال کیا، اور ان پر بہت سی نظمی کتبے (epitaphs) لکھوائے۔ اس طرح انہوں نے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

چرچوں کی تعمیر و مرمت: انہوں نے روم میں کئی گرجا گھروں کی تعمیر اور مرمت بھی کروائی۔

میراث

پوپ ڈیمیسس اول کو “پہلا سوسائٹی پوپ” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کا تعلق رومی اشرافیہ سے تھا اور انہوں نے کلیسا کو سماجی اور سیاسی سطح پر مضبوط کیا۔ ان کی قیادت میں، کیتھولک کلیسا کو ایک منظم اور مستحکم ادارے کے طور پر ابھرنے کا موقع ملا۔ ان کا سب سے نمایاں اثر ولگیٹ بائبل کی تیاری تھا، جس نے مغربی کلیسا کے لیے ایک یکساں اور مستند کتاب مقدس فراہم کی۔

11 دسمبر 384 عیسوی کو ان کا انتقال ہوا، اور آج بھی ان کی یاد 11 دسمبر کو منائی جاتی ہے۔ پوپ ڈیمیسس اول کو کیتھولک کلیسا کے ایک ایسے پوپ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے عقائد کا دفاع کیا، بائبل کی اہمیت کو اجاگر کیا، اور روم کے کلیسا کی برتری کو مستحکم کیا۔

Leave a Comment