شخصیات

جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ

جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک ایسے نمایاں اور حسین شخصیت کے مالک تھے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے “یوسف ہٰذہ الامۃ” یعنی “اس امت کا یوسف” کا لقب عطا فرمایا۔ آپ کا تعلق یمنی قبیلے بجیلہ سے تھا، اور آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد دین کی اشاعت، جہاد اور فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔

اسلام قبول کرنا

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے 10 ہجری میں حجۃ الوداع سے تقریباً 40 دن پہلے اسلام قبول کیا۔ جب آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر مسکرائے اور اپنی چادر بچھا دی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لیے خاص عزت افزائی تھی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جریر کے اسلام لانے سے کتنی خوشی ہوئی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بعض اہم ذمہ داریاں بھی سونپیں۔

“یوسف ہٰذہ الامۃ” کا لقب

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنی بے مثال خوبصورتی اور وجاہت کے لیے مشہور تھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس خوبصورتی کو دیکھ کر فرمایا: “یہ اس امت کا یوسف ہے” (جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے)۔

نمایاں کردار اور فضائل

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے چند نمایاں پہلو اور کارنامے درج ذیل ہیں:

ذو الخلصہ بت کدہ کو مسمار کرنا: اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جریر بن عبداللہ کو ایک لشکر کے ساتھ یمن کی طرف روانہ کیا تاکہ وہاں موجود مشرکین کے بت کدہ ذو الخلصہ کو منہدم کر دیں۔ یہ بت کدہ قبیلہ بجیلہ، خثعم اور دیگر کئی قبائل کا مرکز تھا، جسے “کعبۃ الیمانیہ” بھی کہا جاتا تھا۔ جریر رضی اللہ عنہ نے کامیابی سے اس بت کدہ کو مسمار کیا، اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو دعا دی۔

عہد فاروقی میں فتوحات: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عراق کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے مشہور جنگ قادسیہ میں شرکت کی اور اس کے بعد کئی دیگر معرکوں میں بھی شامل رہے۔ آپ نے نہاوند اور جلولاء کی فتوحات میں بھی حصہ لیا اور کئی شہروں کو فتح کرنے میں کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

جنگ صفین میں غیر جانبداری: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا، تو جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس میں غیر جانبداری اختیار کی اور فتنے سے بچنے کی کوشش کی۔

احادیث کی روایت: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی تعداد میں احادیث روایت کیں۔ آپ کی روایات صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں اور آپ کو ایک ثقہ اور معتبر راوی سمجھا جاتا ہے۔ آپ سے روایت کردہ احادیث میں ایمان، نماز، زکوٰۃ، اور دیگر عبادات سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

وفات

جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 51 ہجری (671 عیسوی) میں وفات پائی۔ آپ نے اپنی زندگی جہاد فی سبیل اللہ، تبلیغ دین اور خدمت اسلام کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی شخصیت میں تقویٰ، پرہیزگاری، خوبصورتی اور بہادری کا حسین امتزاج تھا۔

Leave a Comment