شخصیات

جنرل ایلیئس گالوس

جنرل ایلیئس گالوس (Aelius Gallus) ایک رومی پریفیکٹ (Prefect) اور فوجی کمانڈر تھے جنہوں نے شہنشاہ آگسٹس (Augustus) کے دور حکومت میں مصر کے رومی صوبے کے دوسرے پریفیکٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہیں سب سے زیادہ 25-24 قبل مسیح میں عربیہ فیلیقس (Arabia Felix)، یعنی موجودہ یمن کی مہم کی کمانڈ کرنے کے لیے جانا جاتا ہے، جو روم کی تاریخ میں ایک اہم اور چیلنجنگ فوجی مہم تھی۔

ابتدائی زندگی اور تقرری

ایلیئس گالوس کا تعلق ایک ممتاز رومی خاندان سے تھا۔ انہیں 26 یا 25 قبل مسیح میں مصر کا پریفیکٹ مقرر کیا گیا، جو کہ رومی سلطنت کا ایک انتہائی اہم اور امیر صوبہ تھا۔ مصر کی پریفیکچر براہ راست شہنشاہ کے کنٹرول میں تھی تاکہ اس کے زرعی وسائل (جو روم کی خوراک کی فراہمی کے لیے اہم تھے) پر مکمل کنٹرول رکھا جا سکے۔

عربی مہم (25-24 قبل مسیح)

شہنشاہ آگسٹس نے ایلیئس گالوس کو عرب کے جنوب میں واقع خوشحال علاقے، عربیہ فیلیقس (یمن)، پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس مہم کے بنیادی مقاصد درج ذیل تھے:

اقتصادی مفادات: یمن اپنی خوشبو والی رالوں، جیسے لبان (frankincense) اور مر (myrrh) کے لیے مشہور تھا، جو رومی دنیا میں بہت قیمتی تھیں۔ روم ان تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا جو مصر سے ہو کر یمن تک جاتے تھے۔

عسکری کنٹرول: بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں پر رومی کنٹرول کو مضبوط کرنا۔

نئے علاقے دریافت کرنا: آگسٹس کو امید تھی کہ اس مہم سے مزید وسائل اور علاقے دریافت ہوں گے۔

مہم کا سفر اور مشکلات:

گالوس نے تقریباً 10,000 رومی فوجیوں، 500 یہودی سپاہیوں (ہیروڈ دی گریٹ کی طرف سے بھیجے گئے)، اور 1,000 نبطی (Nabataean) اتحادیوں کے ساتھ مصر سے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ یہ مہم دو حصوں میں تقسیم تھی:

بحری سفر: مہم کا آغاز بحری راستے سے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ہوا۔ تاہم، یہ سفر بہت مشکل ثابت ہوا کیونکہ رومی بحری بیڑا اس علاقے کے غیر مانوس پانیوں اور چٹانوں سے ناواقف تھا، جس سے انہیں کافی نقصان ہوا۔

صحرائی سفر: اس کے بعد، فوج نے اندرون ملک یمن کے صحرائی علاقوں میں پیش قدمی کی۔ یہ سفر بہت تباہ کن ثابت ہوا:

ناواقف جغرافیہ: رومی فوجی صحرائی جنگ اور اس کے سخت ماحول سے ناواقف تھے۔

پانی کی قلت: پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے پیاس اور بیماریوں سے بڑی تعداد میں فوجی ہلاک ہوئے۔

مقامی مزاحمت: اگرچہ کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی گئی، مقامی قبائل نے چھاپہ مار کارروائیوں اور محاصروں کے ذریعے رومیوں کو مسلسل تنگ کیا۔ نبطی رہنما سائلئس (Syllaeus) پر بعد میں غداری کا الزام لگایا گیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کیں اور رومیوں کو مشکل راستوں پر لے گئے۔

نتائج:

طویل اور مشکل سفر کے بعد، گالوس کی فوج یمن کے ایک مقام ماریا (Ma’rib) کے قریب پہنچ گئی، لیکن وہ شدید بیماریوں، بھوک اور پیاس کی وجہ سے مزید آگے بڑھنے سے قاصر تھے۔ انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ مہم رومیوں کے لیے ایک بڑی ناکامی ثابت ہوئی۔ جو فوجی یمن پہنچے تھے، ان میں سے بہت کم واپس آئے۔ اسٹربو (Strabo)، ایک یونانی مورخ، جو گالوس کے قریبی دوست تھا، نے اپنی کتاب “جیوگرافیکا” میں اس مہم کی تفصیلات بیان کی ہیں، جس میں سائلئس کی غداری کا بھی ذکر ہے۔

مہم کے بعد

عربی مہم کی ناکامی کے بعد، ایلیئس گالوس کو مصر کے پریفیکٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، لیکن وہ شہنشاہ آگسٹس کے زیر عتاب نہیں آئے۔ ان کی جگہ 24 قبل مسیح میں پبلئس پیٹرونیئس (Publius Petronius) کو پریفیکٹ مقرر کیا گیا۔

ایلیئس گالوس کی عربی مہم اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح رومی فوجی طاقت، جو یورپ اور بحیرہ روم میں لاجواب تھی، نامعلوم اور سخت جغرافیہ میں غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر سکتی تھی۔ یہ مہم رومیوں کے لیے ایک اہم سبق ثابت ہوئی کہ ہر خطے کو فوجی طاقت سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Comment