ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ (اصل نام: مالک بن تیہان) کا شمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔ آپ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی پوری زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
ابو الہیثم بن تیہان کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا اور ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں بھی توحید کے قائل تھے اور بت پرستی سے بیزار تھے۔ انہیں دین فطرت کی تلاش تھی اور جب اسلام کی روشنی مدینہ پہنچی تو انہوں نے اسے فوراً قبول کر لیا۔
اعلان نبوت کے گیارہویں سال مکہ مکرمہ میں جن چھ انصاری صحابہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، ان میں ابو الہیثم بن تیہان بھی شامل تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام کی ترویج و اشاعت کا کام شروع کیا۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں آپ نے شرکت کی اور بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جب 70 افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی، تو آپ بھی ان میں شامل تھے۔ آپ کو ان بارہ خوش نصیب نقباء (قوم کے سرداروں) میں سے ایک منتخب کیا گیا تھا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مدینہ میں اسلام کی تبلیغ اور نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو ان کا اخوی بھائی (بھائی) بنایا۔
مجاہدانہ شان اور غزوات میں شرکت
ابو الہیثم بن تیہان ایک بہادر اور نڈر مجاہد تھے۔ آپ نے جنگ بدر، احد، خندق اور تمام دیگر غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کفار سے مقابلہ کیا اور شجاعت کے جوہر دکھائے۔ آپ میدان جنگ میں دو تلواریں استعمال کرتے تھے، اسی وجہ سے آپ کا لقب “ذو السیفین” یعنی “دو تلواروں والا” بھی تھا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اخلاق
ابو الہیثم رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت تھی۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کے عالم میں باہر تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم بھی وہاں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو ابو الہیثم کے گھر کی طرف جانے کا اشارہ کیا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ ان کے پاس باغات اور بکریاں ہیں اور وہ مہمان نوازی کا دل رکھتے ہیں۔ جب وہ ابو الہیثم کے گھر پہنچے تو وہ خود موجود نہیں تھے، لیکن ان کی زوجہ نے آنے والوں کو خوش آمدید کہا۔ تھوڑی دیر بعد ابو الہیثم پانی کا مشکیزہ لیے لوٹے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے کھجوروں، دودھ اور پانی سے مہمانوں کی تواضع کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کس قدر مہمان نواز اور صاحب خیر تھے۔
وفات
ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ روایات کے مطابق آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں 20 ہجری میں وفات پائی۔ جبکہ بعض دیگر روایات کے مطابق آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک زندہ رہے اور جنگ صفین (37 ہجری) میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہادت کے بلند درجے پر فائز ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہج البلاغہ میں ان جیسے اصحاب کے نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث بھی روایت کی ہیں۔ آپ کی زندگی ہم سب کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں توحید پرستی، اخلاص، جہاد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
