حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ (وفات تقریباً 40 ہجری / 660 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کا شمار ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزادی عطا فرمائی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی خادم اور قابلِ اعتماد ساتھی بنے۔ آپ کا اصل نام اسلم تھا، لیکن آپ اپنی کنیت “ابورافع” سے زیادہ مشہور ہوئے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ قریش کے سرداروں میں سے ایک عباس بن عبدالمطلب (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) کے غلام تھے۔ آپ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا تھا، جب کہ آپ کے آقا عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے بھی خفیہ طور پر مسلمانوں کی مدد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خبریں لے جاتے تھے۔ جب عباس رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فدیہ دے کر آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اسی دوران ابورافع رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر آیا۔ بعد میں عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں آزاد کر دیا اور اس کے بعد وہ پوری طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
نبی کریم ﷺ کی خدمت اور فضائل
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے آزادی حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی خادم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
معاشرتی مقام: اس وقت غلاموں کو سماج میں بہت کم حیثیت حاصل تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عزت بخشی اور انہیں اپنے قریبی ساتھیوں میں شامل کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی یہ روشن مثال ہے کہ آپ نے نہ صرف انہیں آزاد کیا بلکہ انہیں اپنے خاندان کے فرد کی طرح عزت دی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کرایا۔
علمِ حدیث: حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں۔ چونکہ وہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، انہیں آپ کے اقوال، افعال اور احوال کا گہرا مشاہدہ حاصل تھا۔ آپ کی روایات حدیث کی مختلف کتابوں میں موجود ہیں، جو ان کے علمی مقام کو ظاہر کرتی ہیں۔ آپ سے روایت کی گئی احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر، عبادات اور دیگر معمولات کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔
عسکری خدمات: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض غزوات میں بھی شرکت کی۔
خلفائے راشدین کے دور میں خدمات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔
مالی معاملات کی دیکھ بھال: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، آپ بیت المال کے نگران (خزانچی) مقرر کیے گئے، جو آپ کی دیانتداری اور امانت داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وفات
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 40 ہجری (660 عیسوی) میں وفات پائی۔ آپ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی گزاری جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت، علمِ حدیث کی حفاظت اور اسلامی ریاست کی خدمت میں صرف ہوئی۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا۔
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی زندگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسلام نے کس طرح نسلی امتیاز اور طبقاتی تقسیم کو ختم کیا اور تمام انسانوں کو تقویٰ کی بنیاد پر یکساں عزت عطا کی۔
